ہارون بشیر بلور کی ضلع ناظم صوابی امیر الرحمان پر فائرنگ کی مذمت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے اے این پی صوابی کے صدر اور ضلع ناظم امیر الر حمان پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مکروہ فعل میں ملوث پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو جلد از جلد گرفتار کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں بھتہ خوروں کا راج ہے اورحکومت نام کی کوئی چیز نہیں شہریوں کو ٹارگٹ کلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، اور صوبائی حکومت میں موجود دہشت گردوں کا ونگ اپنی مذمومم کاروائیاں زور شور سے کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ہے ، بم حملے ، اغواء برائے تاوان ، رہزنی ، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ہارون بلورنے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور دہشتگردی کے واقعات کو سپورٹ کرنے سے صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام میں خوف و ہراس پھیلتا جا رہا ہے اورلوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔صوبائی ترجمان نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں پر فائرنگ اور تشدد کے واقعات ،صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول پرصوبائی حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کے معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو بدامنی پرکنٹرول کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اور پالیسی اپنا نا ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور پر امن ماحول فرہم کرنے کیلئے زبانی جمع خرچ سے نکلنا ہوگا۔ 
ہارون بلور نے مزید کہا کہ عوام کبھی بھی اتنے مایوس نہیں ہو ئے تھے جتنے اس دور میں نظر آرہے ہیں اور موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے نالاں ہو چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو لوگوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ذمہ داری قبول کرنا ہوگی اور موجودہ حکومت کو بدامنی ختم کرنے اور بدامنی کے خلاف لڑنے کیلئے اے این پی کی ذمہ داروانہ پالیسیوں کی تقلید کرنا ہوگی۔