اکیس(۲۱) مارچ،شاعری کا عالمی دن، روخان یوسف زئی کا مضمونPashtopoetry

دا رختیا دی چہ لہ دردہ زبیرگے خیژی
ګنړه څۀ وه د رحمان له شاعرئ

شعر کار د هر فاسق د فاجر نۀ دے
نۀ د هر يوه اوږ سترګي د کنګال
شعر کار يا د سالک يا د مالک دے
د دردمند دے د ولي دے د ابدال
دهغې شاعر دانې اوشه په ژبه
چې د شعر دردانې پلوري په مال

چې دارو پکښې د قام د خوږو نۀ وي
تف په داسې شاعرئ او په هنر شه

اوس به د وخت د زړۀ خبرې کوي
ملګرو مونږ د کار سړے کړو غزل

محبت زما ايمان دے محبت زما کعبه ده
صحافت زما روزګار دے شاعري مې محبوبه ده
چې نړئ د امن کور شي، ورک د ظلم جبر زور شي
زما دغۀ سياست دے زما دغۀ نظريه ده

له زړګي چې وينه وڅڅوم بېت شي
زمانې زما نقصان ته خو خيال اوکړه

قلم ډوب کړه خپله وينه کښې صابره
بې له وينې ښه شعرونه نۀ جوړيږي

پټ وي طوفانونه د شاعر په خاموشئ کښې
مۀ شه پرې غلط چې بس خبرې جوړوي

ادب چاہے کسی بھی زبان کا ہو دراصل مسائل حیات کے اظہار،ترجمان اوررہنما کا نام ہے اوردنیا کے ہرزبان کے ادب کی سب سے قدیم اور بنیادی صنف شاعری ہے،چاہے وہ لوک شاعری ہو،کلاسیکی یاجدید شاعری ہو بنیادی طور پر اپنے سماج کی حقیقتوں کا عکس اور آئینہ ہے،مسائل حیات ہی شاعری کا خام مواد ہوتے ہیں،شاعری کا تانا بانا اسی سے بُنتاہے،لیکن شاعر ان مسائل حیات کو کس طرح اور کس انداز میں شاعری میں ڈھالتاہے دراصل یہ وہ پہلو ہے جس سے شاعری کے درجے اور کسی شاعر کا مقام اور مرتبہ مقررہوتاہے،انسانی خیالات،جذبات واحساسات اور ان کے فنی مظاہرکا براہ راست تعلق زندگی کے عروج وزوال سے ہے،اور جس طرح کسی معاشرے کے ذرائع پیداوارمیں تبدیلی آتی ہے اسی طرح انسانی خیالات بھی بدلتے جاتے ہیں اور اس حقیقت کو صاحب سیف وقلم خوشحال خان خٹک نے آج سے چند صدیاں قبل اپنے ایک شعر میں بیان کیا ہے کہ
چہ ئے عمر د سارویو سرہ تیروی
زیست روزگار د ھغو ھم پہ ھغہ ثیر وی
جس کی زندگی مال مویشیوں کے ساتھ گزری ہو اس طرح اس کا زیست و روزگار بھی ہوگا لہذا خوشحال خان ختک کا مذکورہ شعر اس فلسفیانہ اصول کا طرف دار ہے کہ انسان کا مادی وجود اس کے شعور کا تعین کرتاہے، یعنی ذہن حقیقتوں کا خالق نہیں بلکہ مادی حقائق خود ذہن کی تخلیق کرتے ہیں،اور ان کا وجود انسانی ذہن سے باہرہوتاہے۔ شاعر ادیب کے تخلیقی کارنامے ان حقائق کا عکس ہوتے ہیں جو سماج میں پائے جاتے ہیں،تخلیق کار کے گردوپیش کی دنیا کی امیدیں اس کا حسن اور اس کی بدصورتی اس کی کشمکش اور اس کا سلجھاو اس کے بسنے والوں کی امیدیں اور مایوسیاں خواب اور امنگیں،رنگ و روپ،بہار اور خزان اس کے موضوع بنتے ہیں،ادب حیات انسانی کے سفر کی ایک غیرمرتب تاریخ ہے،جس میں انسان کے داخلی اور خارجی،فکری اور سماجی،سیاسی اور تہذیبی تمام پہلونمایاں ہوکرسامنے آتے ہیں،ادب کی گفتگودراصل انسان کی اپنی گفتگو اور اپنی ہی کہانی ہے، آج اگر ہم اپنے اردگر دیکھیں تو کیا اس حقیقت کو مان لینے میں کوئی کسرباقی رہ گئی ہے کہ ہم آج خوصاً پختون لکھاری فنا اور بقا کے سوال کے روبرو کھڑے ہیں،ہمارے اردگرد تنگ نظری،شدت پسندی،مذہبی منافرت اور دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے،ہماری زندگی،ہماری روایات،اقدار،تاریخ اور ہماری ثقافت کو جھلسادینے والی بھسم کردینے والی آگ ہے مگر افسوس کہ اس آگ پر کوئی بھی قوت پانی یا مٹی ڈالنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے، الٹابعض قوتیں اس آگ کو اور بھی بڑکانے اور پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں،ہم کب تک اس بیدردی سے مارے جائیں گے۔ کب تک ہم اس آگ کا ایندھن بنتے جائیں گے؟مانا کہ ادب کا تخلیق کار ہتھیاربندسپاہی نہیں ہے اس کے پاس گولا بارود اور اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف نہیں ہے اگر ہیں تو وہ صرف اور ڈرف صرف الفاظ اور اس کی جادوگری ہے،انفرادی حرکت ہے جومل جل کر ایک قابل ذکراجتماعی تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

ہم تاریخ کے بدترین اور بہت ہی نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہم نے اسی مٹی پر آنکھ کھولی ہے یہیں ہمارا مرنا اور جیناہے،یہیں ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو جیناہے توکیا ہم پر اپنی اس دھرتی،اپنی قوم اور اپنی زبان کوئی ادبی اور علمی قرض نہیں بنتا؟ اور کیا اس جنگ میں ہم پر امن کی خاطر قلمی جہاد فرض نہیں ہے؟،ہمارے عہدکا اصل تماشہ اور اصل المیہ تعصب،تنگ نظری، رجعت پرستی ،مذہبی انتہاپسندی،شدت پسندی اور دہشت گردی ہے اور یہ موجودہ تمام امراض ہمارے معاشرے میں الفاظ ہی کے ذریعے سے تقاریر سے،کتب و رسائل سے اور اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پھیلتے جارہے ہیں۔ ادب اور فن اگر ان تمام امراض پرحملہ آور ہوسکتاہے تو وہ ان امراض کی ادبی طرز میں تنقید اور مخالفت کے ذریعے، حسن اور سچائی کی سربلندی کے ذریعے انسان دوستی،روشن خیالی اور امن کے فروغ کے ذریعے۔دوستوفسکی نے کہا تھا کہ’’حسن دنیاکو تباہی سے بچاسکتاہے‘‘اور اس وقت ہم جس تباہی اور بربادی سے دوچار ہیں اس سے مزید بچنے کے لیے امن سے زیادہ اور حسن کیا ہوسکتا ہے؟