مورخہ : 4.6.2016 بروز ہفتہ

ہمارے ہیروز اور پختون تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا جارہاہے، میاں افتخار حسین
ملک کالوخان پختون قوم کا ہیرو اور چمکتا ہوا ستارہ تھا، حکومت کو اُن کیساتھ کی گئی ناانصافی کا حساب دینا ہوگا۔
جب خیبر پختونخوا میں ایڈ ہاک پر کام کرنے والے لیکچررز کو ریگولرائز کر دیا گیا تو پھر ڈیپوٹیشن پر فاٹا میں کام کرنے والوں کو کیوں نظر کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس ٹی اساتذہ کیلئے 2015 میں صوبائی اسمبلی میں قرارد منظور ہوئی تھی اُس کو عملی جامعہ پہنایا جائے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے پشاور پریس کلب کے سامنے ایک مصروف ترین دن گزارا اس موقع پر اے این پی کی مرکزی جائنٹ سیکرٹری جمیلہ گیلانی بھی اُن کے ہمراہ تھیں۔ پشاور پریس کلب کے سامنے خیبر پختونخوا کے مختلف ایشوز پر مختلف تنظیموں اور افراد کے ساتھ ساتھ ترقی پسند ادیبوں نے جماعت نہم کے انگلش مضمون کے ایک سبق میں ملک کالو خان کو غدار اور ڈاکو کے نام سے یاد کرنے کے خلاف احتجاج کیا ۔
میاں افتخار حسین نے اس موقع پر اُن سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہیروز اور پختون تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا جارہاہے وہ اس لیے کہ وہ پختونوں کی آنے والی نسلوں کو ذہنی طور پر اپنی تاریخ اور ہیروز سے متنفر کر سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک کالو خان نے تقریباً 80 کے قریب لڑائیاں لڑیں اور اُس میں مخالفین کواُن کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا، وہ پختون قوم کا ہیرو اور چمکتا ہوا ستارہ ہے جب مغلوں نے پختونوں کی سرزمین پر یلغار کیا اور پختون دُشمنی میں اُنہوں نے انتہا کر دی تو یہی ملک کالون خان تھے جنہوں نے اُن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لہٰذا ہم موجودہ حکومت کی اس روش کی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے 2015 سے بچوں کو یہ اُلٹی تاریخ پڑھانا شروع کی ہوئی ہے، اس کو درست کیا جائے اور اسی سبق میں میں ملک کالو خان جو ہیرو کا حقدار ہے اُس کو حق دیا جائے اور مغل جو اس سرزمین کے غدار تھے اُن کو غدار قرار دیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم موجودہ حکومت اور سلیبس بنانے والوں کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہم پختونوں کی حقیقی تاریخ کو محفوظ بنانے اور اس کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے ، ملک کالو خان اس دھرتی کا ہیرو تھا اور اس کے ساتھ موجودہ حکومت نے جو نا انصافی کی ہے اس کا حساب اُن کو دینا ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے لیکچررز جو کہ ڈیپوٹیشن پر قبائلی علاقوں میں اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں، اُنہوں نے اپنی سروس کو ریگولرائز کرنے کیلئے ہڑتالی کیمپ لگایا تھا ۔ میاں افتخار حسین نے اس موقع پر صوبائی حکومت کو یاد دلایا کہ جب خیبر پختونخوا میں ایڈ ہاک پر کام کرنے والے لیکچررز کو ریگولرائز کر دیا گیا تو پھر ڈیپوٹیشن پر فاٹا میں کام کرنے والوں کو کیوں نظر کر دیا گیا ہے، یعنی ایک جیسے بھرتی ہونے والے لیکچررز میں نا انصافی کیوں کی گئی۔ لہٰذا انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کو ریگولرائز کیا جائے جبکہ فاٹا کے لوگوں نے اپنے حقوق کے لیے احتجاجی کیمپ لگایا تھا ۔اُنہوں نے فاٹا کے لوگوں کے جائز مطالبات کے حق میں اُن سے یکجہتی کا اظہار کیا ،خصوصی طور پر ایف سی آر کا خاتمہ ، قبائل آئی ڈی پیز کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر اُن کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور جلد سے جلد اُنہیں باعزت طریقے سے بھیجا جائے اور قبائلی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا جو مسئلہ ہے درپیش ہے اُس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائل علاقہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انتظامی طور پر ضم کیا جائے اور اس کیلئے یہی وقت ہے کہ ہم خیبر پختونخوا ہ قبائل کا حصہ بنائیں اور ہم سب ایک ہو کر اس کیلئے جدوجہد کریں۔
ایس ایس ٹی اساتذہ نے پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی جلوس نکالا، جلوس کے شرکاء سے میاں افتخار حسین نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپکے جائز مطالبے کے حق میں ہیں اور 2015 میں ان کے حق میں صوبائی اسمبلی میں متفقہ طور پر قرار داد منظور ہوئی تھی لہٰذا موجودہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسمبلی کی متفقہ قرارداد پر عمل کرتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کریں اور یہ آئینی اور اخلاقی طور پر ان پر لازم ہے کہ وہ اس قرارداد کو ہر صورت عملی جامعہ پہنائیں۔