مورخہ 20 جون 2016ء بروز پیر

کنٹینر سکولوں کی تعمیر کے نام پر پی ٹی آئی کے مالی معاونین کو نوازا جائے گا،سردار حسین بابک
تعلیمی ایمرجنسی کیلئے اربوں روپے رکھنے کے باوجود تباہ ہونے والے 45ہزار سکولوں کی بحالی آج تک ممکن نہیں ہو سکی
توانائی بحران سنگین ہے پھر بھی اس کیلئے چار کروڑ روپے رکھے گئے جو صوبے کے عوام کے ساتھ مذاق ہے
پاور پالیسی ناکام ہو چکی ہے ، سابق دور کے منصوبوں کو مکمل کر کے لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچا جا سکتاتھا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ بجٹ میں ہر سال تعلیمی ایمرجنسی کیلئے اربوں روپے رکھنے کے باوجود تین سال میں تباہ ہونے والے 45ہزار سکولوں کی بحالی آج تک ممکن نہیں ہو سکی،بلکہ اس کے علاوہ سینکڑوں سکول بند ہو چکے ہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خالی خولی نعروں میں تو نیا خیبر پختونخوا بہت شاندار ہے لیکن کپتان نے تعلیم سب کیلئے کا جو نعرہ لگایا وہ ہوا ہو چکا ہے صوبے میں بیشتر تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں اور 4500سے زائد تباہ شدہ سکولوں کی تاحال بحالی نہیں کی جا سکی جبکہ متعدد سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کی ساڑھے تیرہ ہزاراسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں تاہم حکمران اس اہم عوامی مسئلے سے غافل ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ 129سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے جبکہ200پرائمری اساتذہ آج تک بی پی ایس 14میں ترقی کے منتظر ہیں جو حکومت کی تعلیمی شعبہ میں عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ 200سمارٹ سکول در اصل کنٹینر سکول ہیں اور ان سکولوں کی تعمیر میں بھی کسی ٹائیگر کو نوازا جا رہا ہے،،بجٹ اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 73ارب روپے کا بجٹ خسارہ چھپانے کیلئے بلدیاتی نمائندوں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈالاگیالیکن حکومت پھر بھی قرض لینے پر مجبور ہو گئی ،انہوں نے کہا کہ ہمیں توانائی کے بحران کا سامنا ہے لیکن بجٹ میں اس شعبے کیلئے صرف چار کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ، جبکہ مرکزی و صوبائی حکومت کی اولیں ترجیح توانائی کا شعبہ ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی پاور پالیسی ناکام ہو چکی ہے ، سابق دور کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جاتی اور انہیں مکمل کر کے لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچا جا سکتاتھا،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے چشمہ رائٹ بنک کنال منصوبے کیلئے 65فیصد اخراجات کے اعلان کے باوجود منصوبے کیلئے وفاقی و صوبائی دونوں حکومتوں کی جانب سے ایک پیسہ نہیں رکھا گیا،انہوں نے کہا کہ بجٹ در اصل عوام کا نہیں بیوروکریسی کا تھااور مختلف طریقوں سے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیاہے۔