مورخہ 23 جون 2016ء بروز جمعرات

کسٹم ایکٹ کے خلاف عید الفطر کے بعد بھرپور مزاحمت کی جائے گی، سردار حسین بابک
اے این پی کسٹم ایکٹ کے خلاف ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے تعاون بھرپور احتجاج کا آغاز کرے گی
پنجاب کے دو بڑے لیڈر وں نے اپنے دورہ سوات کے دوران وہاں کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے
ملاکنڈ ڈویژن کے عوام دوغلی پالیسی اختیار کرنے والے منتخب نمائندوں کا کڑا احتساب کریں گے
عوام عید کے بعد کسٹم ایکٹ کے خلاف گاؤں گاؤں اور گلی گلی احتجاج کیلئے بھرپور تیاری کریں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے خلاف بھرپور تحریک چلانے کے عزم کو دہرا یا ہے اور کہا ہے کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کے ساتھ کئے جانے والے دھوکے کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی،اپنے ایک بیان میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی عید کے بعد کسٹم ایکٹ کے خلاف ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے تعاون بھرپور احتجاج کا آغاز کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مرکزی حکومت کیساتھ مک مکا کر کے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے مراعاتی پیکج واپس لے کر دہشتگردی سے تباہ حال ڈویژن کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب کے دو بڑے لیڈر عمران خان اور نواز شریف نے دورہ سوات کے دوران ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے دیرینہ مسئلے پر خاموشی ظاہر کر کے ثابت کر دیا ہے کہ پنجاب کے لیڈروں کیلئے پختونخوا کے عوام اور مسائل کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اُنہوں نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے اپیل کی کہ وہ عید کے بعد سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس ظالمانہ اور جابرانہ اقدام کے خلاف بھرپور احتجاج کا حصہ بنیں اور پنجاب کے لیڈروں پر واضح کر دیں کہ پختون قومی مسائل کے حل کیلئے کس اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کسٹم ایکٹ کے مسئلے پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔ سردار حسین بابک نے ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں شامل وزراء اور ممبران اسمبلی کو ملاکنڈ میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ اگر ان کی حکومتی جماعتوں نے ان کی مشاورت کے بغیر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کیساتھ اتنی بڑی زیادتی کی ہے اور بار بار یقین دہانیوں کے باوجود کسٹم ایکٹ کا فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا تو ان ممبران اور وزراء کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کیساتھ کھڑے ہیں یا اُنہیں حکومتیں عزیز ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام دوغلی پالیسی اختیار کرنے والے منتخب نمائندوں کا کڑا احتساب کریں گے۔ اُنہوں نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے کہا کہ عید کے بعد کسٹم ایکٹ کے خلاف گاؤں گاؤں اور گلی گلی احتجاج کیلئے بھرپور تیاری کریں اور اپنے منتخب نمائندوں کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ وہ عوامی احتجاج کا حصہ بن جائیں۔