مورخہ 13 جون 2016ء بروز پیر

پاک افغان کشیدہ صورتحال کا فائدہ دہشت گردوں کو ہو گا، اسفندیار ولی خان
تناؤ کی صورتحال کے خاتمے کیلئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے
طورخم بارڈر پر پاکستان اور افغان حکام صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ،نقصان عوام کا ہو گا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یا رولی خان نے گزشتہ شب طورخم بارڈر پر پاک افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے سیکورٹی حکام صبر و تحمل کا مطاہرہ کریں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک عرصہ سے تناؤ کی صورتھال چلی آ رہی تھی جس کے بعد اس قسم کے واقعات سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، انہوں نے کہا کہ کشیدگی سے پاکستان میں بسنے والے اور روزانہ سرحد پار آنے اور جانے والے افراد سمیت لاکھوں افغانیوں کیلئے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں،اسفندیار ولی خان نے دونوں ملکوں کے سربراہوں سے اپیل کی کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں اور تناؤ کی صورتحال کے خاتمے کیلئے آپس میں مل بیٹھ کر راہ نکالی جائے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا،پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ کی صورتحال سے باہمی تعلقات کو مزید نقصان کا اندیشہ ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان موجودہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکال کر تناؤ کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کشید ہ صورتحال کے نتیجے میں سرحد پارافغانوں کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے، اے این پی کے قائد نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی کی وجہ سے بے پناہ نقصان پہنچا ہے، لہٰذا دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدہ صورتحال کا فائدہ دہشت گردوں کو ہو گا، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو وسیع تر مفاد اور امن عامہ کے قیام کو یقینی بنانے کی خاطر عدم برداشت کا رویہ ترک کرنا ہو گا۔