مورخہ : 14.6.2016 بروز منگل

وفاقی بجٹ مایوس کن اورمخصوص ذہنیت کے بابوؤں کا تیارکردہ تھا۔ زاہد خان
بد قسمتی سے خیبر پختونخوا کا بجٹ بدعنوانی کے ملزم وزیر خزانہ نے پیش کیا ،
صوبے میں ڈیمز کی تعمیر، آئی ڈی پیز کی واپسی فاٹا میں بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کیلئے وفاقی بجٹ میں کچھ نہیں
صوبائی حکومت میں بدعنوانی سے پاک ایک بھی وزیر یا ممبر موجود نہیں جو صوبے کا بجٹ پیش کر سکے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے وفاقی بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے صوبوں کیلئے بڑے میگا پراجیکٹس کی مد میں خاطر خواہ رقوم نہ رکھنے کی پالیسی کو قائم رکھ کر اسلام آباد کی حاکمانہ ذہنیت نے محرومیوں میں اضافے کا پروگرام جاری رکھنے کی منصوبہ بندی نہیں چھوڑی۔ وسائل پر صوبوں کے آئینی اختیار کے باوجود صوبہ خیبر پختونخوا کی پن بجلی خالص منافع کے بقایا جات کی ادائیگی صوبے میں بڑے ڈیمز کی تعمیر اور آئی ڈی پیز کی واپسی فاٹا میں بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کیلئے وفاقی بجٹ میں کچھ نہیں۔اپنے ایک بیان میں زاہد خان نے مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کو 2018 تک مکمل کرنے کے اے پی سی میں وزیر اعظم کے وعدے کے برعکس مغربی روٹ کیلئے بجٹ نہیں لیکن اورنج ٹرین لاہور کو سی پیک سے بنایا جائیگا،اُنہوں نے کہا کہ وفاق کو حاکمانہ رویہ تبدیل کر کے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اکائیوں کو بھی برابری کی سطح پر ترقی دیتے ہوئے وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے عملی اقدامات اُٹھانے ہونگے،کے پی کے ، سندھ ، بلوچستان ، فاٹا ، جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقہ جات کو بھی ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کی بجائے پہلے سے ترقی یافتہ مخصوص شہری علاقوں پر بجٹ خرچ کرنا ناانصافی ہے۔ زاہد خان نے مطالبہ کیا کہ بجلی ، گیس اور محصولات فراہم کرنیوالے صوبوں کے عوام کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے بجٹ دیئے جائیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر وفاق کا بجٹ اسلام آباد کی مخصوص ذہنیت کی بیورو کریسی اور بابوؤں نے مخصوص علاقوں کیلئے بنایا ہے تو بدقسمتی سے صوبہ خیبر پختونخوا کا بجٹ خیبر بنک میں بدعنوانی کے ملزم وزیر خزانہ پیش کرینگے جو صوبہ کیلئے ہمیشہ بدنما داغ رہے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی اتحادی حکومت کے سربراہان عمران خان اور سراج الحق بدعنوانی کے خلاف اخباری خبروں کی حد تک مہم چلا رہے ہیں لیکن صوبہ کا بجٹ بدعنوانی کے الزام کا وزیر خزانہ پیش کرے گا اور سوال اُٹھایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں بدعنوانی کے داغ سے پاک ایک بھی وزیر یا ممبر موجود نہیں جو صوبے کا بجٹ پیش کر سکے۔