مورخہ 23 جون 2016ء بروز جمعرات

دنیا تعلیم کی اہمیت کو جان چکی،باچا خان بابا کا مشن کامیابی کی طرف گامزن ہے، اسفندیار ولی خان
باچا خان کے نام سے منسوب سکولوں نے میٹرک میں سو فیصد نتائج دے اُن کا نام بلند کر دیا
پرنسپل، طلباء،اساتذہ ، سکول انتظامیہ اور فاؤنڈیشن انتظامیہ خراج تحسین کے مستحق ہیں،
اٹھارویں ترمیم کے بعد اب صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باچا خان بابا کے مشن پر عمل کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے سکولوں کی میٹرک کے نتائج میں عمدہ اور بہترین کارکردگی پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سکولوں کے سو فیصد نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ باچا خان بابا کے ارمان پو رے ہو گئے ہیں، اپنے ایک تہنیتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے ان نتائج کو باچا خان بابا کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا اور ان سکولوں کے پرنسپل، طلباء،اساتذہ ،سکول انتظامیہ اور باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کو خصو صی طور پرخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ باچا خان بابا نے جس مقصد کیلئے تعلیم کے فروغ اور ترویج کے کام کا آغاز کیا آج وہ مقصد پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ، پشاور اور کوہاٹ بورڈ کے زیر اہتمام میٹرک کے امتحانات میں حصہ لینے والے باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سکولوں نے سو فیصد نتائج حاصل کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ، اسفندیا رولی خان نے کہا کہ ان تمام سکولوں میں تنقیدی شعور پر مبنی نظام تعلیم صرف اس لئے رائج ہے کیونکہ یہ نظام تعلیم امن ، ترقی ، خوشحالی کی جانب ایک قدم ہے، انہوں نے کہا کہ متذکرہ بالا سکولوں نے اپنی سو فیصد کارکردگی دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ باچا خان بابا کا تعلیم کے فروغ و ترویج کا مشن پورا ہو رہا ہے اور ان کے نام پر بننے والے سکوں کے طلباء نے اپنی محنت اور لگن سے اس مشن کی تکمیل میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے سکولوں کے پرنسپل ، اساتذہ ، طلباء اور سکول انتظامیہ کو لازوال اور تا ریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ و مستقبل میں بھی باچا خان بابا کے مشن کی تکمیل کیلئے دن رات محنت اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بحسن خوبی پوری کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسا نظام تعلیم ہونا چاہئے جس سے تحقیقی کام کو فروغ مل سکے۔ اب دنیا تعلیم کی اہمیت کو سمجھ چکی ہے جن ممالک نے تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے وہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد اب صوبوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باچا خان بابا کے مشن پر عمل کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔