مورخہ 19 جون 2016ء بروز اتوار
خیبر پختونخوا سے اربوں روپے کی معدنیات چوری کی جا رہی ہیں،سردار حسین بابک
موجودہ دور حکومت میں کی جانے والی کروڈ آئل کی چوری کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا گیا
اپوزیشن کو حکومت گرانے کی ضرورت نہیں،اپنے ممبران ہی اسے لے ڈوبیں گے،
نیا پختونخوا بنانے کے دعوے کرنے والے اپنے ممبران کو رام نہیں کر سکتے تو عوام کی توقعات پر کیسے پورے اتریں گے
پنجاب کی پرنٹنگ انڈسٹری کومضبوط کرنے کیلئے صوبے کی پرنٹنگ پریسز کے کئی سو یونٹ بند کر دیئے گئے
قیمتی اثاثے تحریک انصاف کے سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی کوششیں جاری ہیں
صوبے کے حقوق اور مفادات کی جنگ ہر دور میں اے این پی نے ہی لڑی ہے،
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ تین سال تک اسلام آباد اور لاہور کو فتح کرنے والے آج تک خود کو نہیں سنبھال سکے،حکومت کی ہر محاذ پر ناکامی ایک حقیقت ہے اور حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہئے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی موجودہ حالات میں خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں تاہم مذہب، پاکستان اور تبدیلی کے نام اور نعروں پر پشتونوں اور صوبے کے استحصال کے فارمولے نا کام ہو چکے ہیں اور عوام کو ان نعروں و حربوں کے ذریعے بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا ،انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کمی اور گزشتہ ادوار کے اصلاحاتی عمل اور پروگراموں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے والی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ذہنی توزن کھو بیٹھی ہے ،سردار بابک نے کہا کہ حکومت اپنے ہی ناراض ارکان کو منانے میں مصروف ہے جبکہ اپوزشن کی جانب سے حکومت گرانے کی کوئی سازش نہیں کی گئی کیونکہ ’’ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ‘‘ کے مصداق حکومت کے اپنے ہی لوگ اس حکومت کے خاتمے کا سبب بنیں گے، انہوں نے کہا کہ نیا پختونخوا بنانے کے دعوے کرنے والے اپنے ممبران کو رام نہیں کر سکتے تو عوام کی توقعات پر کیسے پورے اتریں گے،، انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے معدنیات کی نئی پالیسی کا انتظار ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہو ریا ہے،اسی طرح انرجی اور پاور میں پرائیویٹ سیکٹر کو حصہ دار بنا کر خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگایا جائے گا،انہوں نے کہا پنجاب کی پرنٹنگ انڈسٹری کو سنبھالا دینے کیلئے صوبے کی پرنٹنگ پریسز کے کئی سو یونٹ بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ کنسلٹنٹ کے نام پر پنجاب ،اسلام آباد اور کراچی کے تحریک انصاف کے مالی معاونین اور ٹائیگرز کو نوازا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ بلین ٹری سونامی اپنے پیاروں کو مالی فوائد کیلئے شروع کی گئی ہیجبکہ حکمرانوں کو دیکھنا چاہئے کہ یہاں پودے اگانے کی ضرورت زیادہ ہے یا پودے بچانے کی ؟انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں ہیوی لوڈ کرپشن کا دور شرع ہو چکا ہے،اور چور مچائے شور کے مطابق کرپشن ہول سیل کی بنیاد پر جاری ہے،صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ NTSکا کریڈٹ لینے والی حکومت غریب بے روزگار نوجوانوں سے کروڑوں روپیہ سالانہ بٹور رہی ہے،جبکہ افسران پنجاب سے بلائے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ اسے اس صوبے کے افسران پر اعتماد ہے یا نہیں؟تحریک انصاف پنجاب سے نشستیں جیتنے کیلئے صوبے کے اثاثوں کو قربان کرنے پر تلی ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ تاریخی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ اس صوبے کے حقوق اور مفادات کی جنگ ہر دور میں اے این پی نے ہی لڑی ہے ہم نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں صوبے میں بے مثال ترقیاتی منصوبوں کا نہ صرف یہ کہ جال بچھایا بلکہ صوبے کے حقوق کو آئینی تحفظ بھی فراہم کیا تاہم موجودہ نا اہل اور ریموت کنٹرول حکومت نے مصلحت، بارگیننگ اور ادارہ جاتی کرپشن سے ہماری جدوجہد اور کامیابیوں پر پانی پھیر دیا ہے اور اس کے باعث صوبے کے مفادات کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے قیمتی وسائل کو اونے پونے بیچنے کاکوئی موقع ضائع نہیں کر رہی۔اور محکمہ صحت،خیبر بنک،ٹور ازم ،محکمہ سیاحت ،انرجی اینڈ پاور جیسے صوبے کے قیمتی اثاثے ،لاہور،اسلام آباد اور کر اچی کے تحر یک انصاف کے سر مایہ کاروں کو اونے پونے فروخت کرنے کی کوششیں جاری ہیں ،انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بہت بڑی کر پشن میں مصروف ہے ۔صوبے میں اربوں روپے کی معدنیات کی سمگلنگ اور چوری جاری ہے۔سردار بابک نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں کروڑوں روپے کے کروڈ آئل کی چوری کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا جا سکا باوجود اس کے کہ اسمبلی فلور پر اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش اور کوشش کے تحت صوبے کو مالی طور پر بحران کا شکار کیا گیا ہے،