مورخہ 15 جون 2016ء بروز بدھ
بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے، غریب آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ، سردار حسین بابک
صوبائی بجٹ وزیر اعلیٰ کے منظور نظر وزراء اور ارکان اسمبلی کیلئے ہے اور صوبے کے چند حصوں کے علاوہ باقی صوبے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا
تعلیم کے فروغ کیلئے مفروضوں پر تکیہ کیا گیا ہے،سابقہ دور کے منصوبے اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی،
بجٹ میں توانائی کے شعبے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ، صوبے میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بے شمار مواقع ہیں
پنجاب میں میٹرو بس کو جنگلہ بس کہنے والوں نے صوبے کیلئے میٹرو بس کا اعلان کیسے کر دیا ،؟
گیارہ ہزار سپیشل فورس کے اہلکاروں کی مدت ملازمت میں توسیع ان کے ساتھ زیادتی ہے،اہلکاروں کو مستقل کیا جائے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندہ قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے،پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے عوام دشمن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ غریب صارف کو اس بجٹ میں نظر انداز کر کے بیورکریسی کو ترجیح دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کیلئے کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں رکھا گیا اور عجلت میں تیار کیا جانے والا بجٹ صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے جبکہ صوبائی حکومت 40ارب روپے کا خسارہ خود تسلیم کر چکی ہے ، سردار بابک نے کہا کہ صوبائی بجٹ وزیر اعلیٰ کے منظور نظر وزراء اور ارکان اسمبلی کیلئے بنایا گیا ہے اور صوبے کے چند حصوں کے علاوہ باقی صوبے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ صوبے میں پچھلے 3سال سے حکومت کی طرف سے لگائی گئی تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود گزشتہ سال بجٹ میں اعلان کردہ سکولوں کی تعمیر نہیں کی گئی جبکہ ان کیلئے بجٹ میں رقم بھی مختص کی گئی جو نقصان دہ اور افسوس ناک ہے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کیلئے مفروضوں پر تکیہ کیا گیا ہے جبکہ حکومت آج تک آئین پاکستان کا آرٹیکل 25Aتک لاگو نہیں کر سکی،انہوں نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے سابقہ دور کے کیڈٹ کالج سوات اور اس جیسے کئی دیگر منصوبے اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے ، انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ تاریخ میں پہلی بار ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص رقم میں سے قرضوں پر انحصار کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں جو 12ارب روپے کا قرض لیا جائیگا اس پر دیئے جانے والے سود کا بوجھ بھی عوام پر پڑے گا،انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے جو عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے ،جبکہ ترقیاتی پروگرام کیلئے ڈونر سے ممکنہ 38ارب روپے ملنے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تعداد کے لحاظ سے بیشتر چھوٹے چھوٹے منصوبے شروع کئے گئے ہیں تاہم ان کیلئے مختص رقم انتہائی قلیل رکھی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں 350بجلی کے ڈیم بنانے کا شوشہ چھوڑنے والے وضاحت کریں کہ اس سے کتنے میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی جبکہ اس بجٹ میں توانائی کے شعبے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیاہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بے شمار مواقع ہیں لہٰذا مرکزی و صوبائی حکومتوں کو ان قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے اے این پی کے دور کے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے آگے آنا چاہئے ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ پنجاب میں میٹرو بس کو جنگلہ بس کہنے والوں نے صوبے کیلئے میٹرو بس کا اعلان کیسے کر دیا ،؟ انہوں نے کہا کہ 36ہزار اسامیاں پیدا کرنے کا اعلان مضحکہ خیز ہے جبکہ سرکاری خزانہ خالی رہتا ہے جو ملازمین حاضر سروس ہیں انہیں تنخواہیں دینے کیلئے حکومت کے پاس پیسے نہیں نئے بھرتی ہونے والوں کو کہاں سے ادائیگی کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ 11ہزار سپیشل فورس کے اہلکاروں کی مدت ملازمت میں توسیع ان کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ تین سال بعد اہلکار اوور ایج ہو جائیں گے البتہ انہیں مستقل کرنے کے احکامات جاری کئے جانے چاہئیں اورگزشتہ ایکعرصہ سے بند ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر کرائے جانے والے بلدیاتی الیکشن کے بعد بھی بلدیاتی نظام کو بہتر نہیں بنایا جا سکا ،اور گزشتہ سال کی طر ح اس سال بھی کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی،۔