مورخہ 21 جون 2016ء بروز منگل
باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سکولوں کے شاندار نتائج نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا، میاں افتخار حسین
پرنسپل، طلباء،اساتذہ ، سکول انتظامیہ اور فاؤنڈیشن انتظامیہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، باچا خان بابا کا مشن پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے
تعلیمی شعبہ میں پالیسی سازوں کی سستی قابل افسوس ہے، پرائمری سطح پر توجہ کی ضرورت ہے
باچا خان بابا کے تمام سکولوں میں تنقیدی شعور پر مبنی نظام تعلیم رائج ہے ،جو امن و ترقی کی جانب ایک قدم ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے میٹرک کے سالانہ نتائج میں باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے سکولوں کی کارکردگی پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے باچا خان بابا کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا ہے، اپنے ایک تہنیتی بیان میں انہوں نے باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں کے میٹرک کے نتائج میں سو فیصد نمبروں کے حصول پر ان سکولوں کے پرنسپل، طلباء،اساتذہ ،سکول انتظامیہ اور باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کو خصو صی طور پرخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ باچا خان بابا نے جس مقصد کیلئے تعلیم کے فروغ اور ترویج کے کام کا آغاز کیا آج وہ مقصد پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ بورڈ سے باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے درگئی طوطہ کان اور اپر دیر کے سکولوں نے سو فیصد نتائج حاصل کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ، اسی طرح پشاور بورڈ سے بی کے ٹی ای ایف کے نوتھیہ، متھرا، چارسدہ اور چترال کے سکولوں نے بھی سو فیصد نمبر حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے ، انہوں نے کوہاٹ بورڈ میں باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن سکول کرک کی نمایاں پوزیشن اور 100فیصد نتائج کا بھی ذکر کیا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ انسانی ترقی کا براہ راست تعلق تعلیم اور صحت کے شعبوں سے ہے جبکہ ناخواندگی سے قوموں کی ترقی رک جاتی ہے اور تنزلی کا سفر شروع ہو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اقوام پروقار معاشروں کی علامت ہوتی ہیں لہٰذا تعلیم کے فروغ کے لئے میڈیا کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا ، میاں افتخار حسین نے تعلیمی شعبہ میں پالیسی سازوں کی سستی پر تشویش کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر پرائمری سطح پر بہت سے ایسے گھمبیر مسائل ہیں جہاں پالیسی سازوں کو خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ان تمام سکولوں میں تنقیدی شعور پر مبنی نظام تعلیم صرف اس لئے رائج ہے کیونکہ یہ نظام تعلیم امن ، ترقی ، خوشحالی کی جانب ایک قدم ہے، انہوں نے کہا کہ متذکرہ بالا سکولوں نے اپنی سو فیصد کارکردگی دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ باچا خان بابا کا تعلیم کے فروغ و ترویج کا مشن پورا ہو رہا ہے اور ان کے نام پر بننے والے سکوں کے طلباء نے اپنی محنت اور لگن سے اس مشن کی تکمیل میں بھرپور کردار دادا کیا ہے، میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے سکولوں کے پرنسپل ، اساتذہ ، طلباء اور سکول انتظامیہ کو لازوال اور تا ریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ و مستقبل میں بھی باچا خان بابا کے مشن کی تکمیل کیلئے دن رات محنت اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بحسن خوبی پوری کرتے رہیں گے۔