مورخہ : 22.6.2016 بروز بدھ

اے این پی کی مدرسہ حقانیہ کیلئے 30 کروڑ بجٹ مختص کرنے کی مخالفت
صوبہ میں دہشت گردی کی نرسریاں لگانے والے مدرسہ حقانیہ کیلئے رکھا گیا بجٹ فی الفور واپس لیا جائے۔
صوبائی حکومت مدرسہ حقانیہ کو بجٹ جاری کریگی تو نیشنل ایکشن پلان پر کیسے عمل ممکن ہو سکتا ہے؟
افغانستان اور پاکستان کی طالبان تحریک کے سابق اور موجودہ مرکزی لیڈروں کا تعلق بھی مدرسہ حقانیہ سے ہے ۔زاہد خان

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ خیبر پختون خوا کے بجٹ میں سے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے لئے 30کروڑ روپیہ مختص کئے جانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے اراکین پر زور دیا ہے کہ مخصوص سوچ اور فکر پھیلانے والے مدرسے کے بجٹ کوصوبائی اسمبلی سے منظور نہ ہونے دیا جائے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے کالجوں یونیورسٹیوں کے قیام کیلئے نہ صرف بجٹ رکھے بلکہ ہر ڈویژن میں یونیورسٹی قائم کی لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی اتحادی حکومت بجائے تعلیم و تحقیق کے جدید ادارے قائم کرتی ۔فرقہ واریت اور تقسیم کی فکر کے اس مدرسے کے لئے 30کروڑ روپیہ رکھا گیا ہے جس مدرسے پر دہشت گردی کی تربیت کے ہر سطح پر الزامات ہیں ۔سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے الزام میں بھی اسی مدرسہ کے دو طالب علم گرفتار ہیں ۔افغانستان اور پاکستان کی طالبان تحریک کے سابق اور موجودہ مرکزی لیڈروں کا تعلق بھی مدرسہ حقانیہ سے ہے ۔مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کیلئے30کرور روپیہ کا بجٹ رکھنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور صوبہ کی حقیقی سیاسی قوتوں کو انتخابات سے باہر کرنے کیلئے جن دہشت گرد تنظیموں ،مدارس اور گروہوں کو استعمال کیا گیا صوبہ خیبر پختون خوا کی عمرانی تبدیلی حکومت نے انتخابی کامیابی کا 30کروڑ روپے بجٹ رکھ کر قرض اتارا ہے۔زاہد خان نے مزید کہا کہ قوم کو اچھی طرح یاد ہے کہ ضرب عضب سے پہلے عمران خان،مولانا سمیع الحق،پروفیسر ابراہیم نے تحریک طالبان کے نمائندوں کے طور پر حکومتی ٹیم کی طرف سے دہشت گردوں سے مذاکرات کئے اور حکیم اللہ محسود کے مارے جانے پر پروفیسر منور حسن نے اسے شہید قرار دیا اور عمران خان نے تحریک طالبا ن کو پشاور میں دفتر کھولنے کی پیشکش بھی کی تھی۔زاہد خان نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کی نرسریاں لگانے والے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کیلئے رکھا گیا بجٹ فی الفور واپس لیا جائے اور مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور ملکی سلامتی کے ذمہ دار ادارے دہشت گردی کے الزامات کے ادارے اور تربیت گاہ کو بجٹ دینے والی صوبائی حکومت کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کاروائی کریں۔زاہد خان نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت سرکاری طور پر دہشت گردی پھیلانے کے الزامات کے مدرسے کو بجٹ جاری کریگی تو نیشنل ایکشن پلان پر کیسے عمل ممکن ہو سکتا ہے اور کہا کہ مدرسے کو بجٹ دینے کا فیصلہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔