اے این پی نے انتہا پسندی کو پروان چڑھانے والی سوچ کی ہمیشہ سے حوصلہ شکنی کی، سردار حسین بابک
حکومت اے این پی دور میں کی جانے والی ترقیاتی سکیموں، مساجد ،سکولوں ،مدارس اور حجروں کو جاری کئے جانے والے فنڈ کا آڈٹ کر کے اپنا شوق پورا کر لے
اے این پی نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر عوامی بہبود کے منصوبوں اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے اقدامات کئے
پی ٹی آئی کو جمہوریت کا سرٹیفیکیٹ دینے والی غیر سرکاری تنظیم کی اپنی حیثیت بھی مشکوک ہو گئی ہے
عمران خان ملک میں جمہوریت کا درس دیتے ہیں جبکہ اپنی پارٹی میں اوپر سے نیچے تک عہدے ’’بقلم خود ‘‘بانٹ رہے ہیں
اے این پی پر تنقید کرنے والے اس تحریک کی قربانیوں اور تاریخ سے بے خبر ہیں ، ہم ان سے گلہ نہیں کرتے ۔
موجودہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور ہر طرف ناکامی کی وجہ سے عوام الناس اے این پی کی حکومت کی راہ تک رہے ہیں
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے واضح کیا ہے کہ اے این پی دور میں اسلامی تعلیمات ، احکام الٰہی اور سیرت النبی کا پرچار کرنے والے مدارس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور انتہاپسندی و بنیاد پرستی کو پروان چڑھانے والی سوچ کی نہ صرف مخالفت کی گئی ہے بلکہ اسی سوچ کی حوصلہ شکنی معاشرے کو پر امن بنانے کیلئے لازمی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اے این پی دور میں کی جانے والی ترقیاتی سکیموں، مساجد،سکولوں ،مدارس اور حجروں کو جاری کئے جانے والے فنڈ کا آڈٹ کر کے اپنا شوق پورا کر لے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں صوبے میں ترقی کا دور دورہ تھا ، صوبے کے کونے کونے میں ترقیاتی کام جاری تھے ،اور اے این پی حکومت نے سرکاری سکولوں پر اعتماد بڑھانے کیلئے والدین اساتذہ کونسلز کے الیکشنز کرائے اوران کو اربوں روپے کا فنڈ دے کر سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے، غرض یہکہ پختون معاشرے کی ہزاروں سال پرانی اخلاقیات رسم و رواج پختون روایات کے امین ادارے ہیں کو فنڈز فراہم کر دئے گئے، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ان مدارس جو من و عن اسلامی تعلیمات احکام الہی اور سیرت النبی کو عام کرنے اور بغیر کسی ذاتی و سیاسی اغراض و مقاصد کے مذہبی شعور اجاگر کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں ان کو نہ صرف فنڈز فراہم کئے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی دور حکومت میں صوبے میں مساجد کے ساتھ سرکاری سطح پر مالی امداد کی گئی اور انہیں فنڈز فراہم کئے گئے تا کہ مساجد میں ضروری سہولیات مہیا ہوں اور فرائض کی ادائیگی میں عوام و الناس کو سہولیات اور آسانیاں ہوں ، سابق صوبائی وزیر تعلیم نے موجودہ ھکومت کے بعض وزراء کی جانب سے اے این پی کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے وزراء اے این پی کی تاریخ سے نا بلد ہیں ، انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان کی تحریک آج اسفندیار ولی خان کی قیادت میں ماضی کی بے مثال جانی و مالی قربانیوں کی تاریخ رقم کرتے ہوئے امن ،رواداری، معاشی انصاف اور سماجی ترقی کیلئے بر سر پیکار ہے، انہوں نے کہا کہ اس تحریک نے ہمیشہ جبر، تشدد ، نفرت ، نا انصافی، پسماندگی اورجہالت کے خلاف عملی قربانیاں دی ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن تھا غربت میں واضح حد تک کمی آ چکی تھی لوگوں کو روزگار کے مواقع مل رہے تھے مہنگائی برائے نام تھی اور عوام دہشت گردی و شدت پسندی کے خلاف کمر بستہ تھے،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر عوامی بہبود کے منصوبوں اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے اقدامات کئے اور یہی وجہ ہے کہ آج عوام اے این پی کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں،سردار حسین بابک نے کہا کہ تعلیم صحت ٹورازم،معدنیات ،زراعت اور دیگر شعبوں میں اے این پی ے دور حکومت میں انقلابی اصلاحات کی گئیں جن کے ثمرات آج تک عوام تک پہنچ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے انتہائی نا مساعد حالات میں بھی حوصلہ افزا نتائج دیئے ہیں ،جبکہ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے’’ روخانہ پختونخوا ‘‘ کو نظر انداز کر دیا ، اور روایتی ہنر مند روزگار سکیم،اور سستا آٹا گھی پروگرام کی بندش قابل افسوس ہے، انہوں نے کہا کہ ہم پر الزامات در الزامات لگانے والوں کی آج اپنی کرپشن کہانیاں عام ہو چکی ہیں ،اور اب انہیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ انہیں جو ’’ ہمدرد ‘‘ اقتدار میں لائے تھے ان کی ہمدردیاں ختم ہو چکی ہیں، سہاروں کے بل پر کی جانے والی سیاست کی عمر چھوٹی ہوتی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کو لے ڈوبی ہے،اور دھرنوں اور احتجاج میں تین سال گزارنے والے اندرونی طور پر شدید اختلافات اور گروپ بندیوں کا شکارہیں اور یہی وجہ ہے کہ سارے ملک میں آن لائن فارم سازی اور تنظیم سازی کا شوشہ چھوڑنے والی تبدیلی سرکار ایک سال تک اشتہارات اور میڈیا کے ذریعے عام لوگوں کی توجہ اور نوجوا نوں کو دوبارہ ورغلانے کیلئے نت نئے حربے استعمال کر رہی تھی آخر کار اس تمام مہم کو ادھورا چھوڑ کر دوسروں کو جمہوریت کا سرٹیفیکیٹ دینے والی پارٹی میں نامزدگیاں کر کے نئی تنخواہ پر پرانے لوگوں کو عہدے تقسیم کئے جا رہے ہیں ، انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف کوملک کی بڑی جمہوری جماعت گرداننے اور اسے جمہوریت کا سرٹیفیکیٹ دینے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہ