مورخہ 5جون 2016ء بروز اتوار
امریکہ ڈرون حملوں کی بجائے ٹیکنالوجی پاکستان کے حوالے کرے۔ میاں افتخار حسین
پنجاب میں دہشت گردوں کا 70فیصدنیٹ ورک کام کر رہا ہے جس کے خلاف بلا امتیاز آپریشن اب اہم ضرورت بن گیا ہے
ٹارگٹ کلنگ کے شکار افراد کو سرکاری شہید قراردیاجائے،مطلوب دہشت گردوں کی پاکستان میں موجودگی سے دنیا سوالات اٹھا رہی ہے
پانامہ لیکس کے خلاف چیخنے والے خیبرلیکس کی تحقیقات اپنے ورزاء سے کرارہے ہیں جو کسی صورت قبول نہیں
خواتین نرسوں کو گرفتار کر کے صوبے کی اقدار و روایات کو پامال کیا گیا ،جائز مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں
قبائلی علاقوں کو خیبرپختون خوا کا حصہ بناکر ایف سی آر کے کالے قانون کا خاتمہ کیاجائے،مردان میں میٹ دی پریس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہاہے کہ ڈرون حملہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے امریکہ حملوں کی بجائے ڈرون ٹیکنالوجی پاکستان کو فراہم کرے ،پنجاب میں دہشت گردوں کا 70فیصدنیٹ ورک ہے بلاامتیاز اپریشن کیاجائے ٹارگٹ کلنگ کے شکار افراد کو سرکاری شہید قراردیاجائے ،ایف سی آر کا خاتمہ اور قبائلی علاقوں کو خیبرپختون خوا کا حصہ بنایاجائے وہ مردان پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، ضلعی صدر وضلع ناظم مردان حمایت اللہ مایار اور نائب صدر عباس ثانی سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی موجودتھے میاں افتخار حسین نے کہاکہ پانامہ لیکس کے خلاف چیخیں مارنے والے خیبرلیکس کی تحقیقات ورزاء سے کرارہے ہیں جو کسی صورت قبول نہیں اور اس معاملے کی تحقیقات ہائی کورٹ سے کرائی جائے، انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت سے تین بجٹ لیپس ہوچکے ہیں جو صوبے کی تاریخ میں سب سے بڑی نااہلی ہے اور حکمرانوں کو اس کا جواب دینا ہوگا اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہاکہ طالبان لیڈر ملامنصورپر ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف ہے امریکہ حملوں کی بجائے ٹیکنالوجی حکومت کو فراہم کرے تاکہ جس طرح دہشت گردوں کے خلاف ازخود کاروائی کی جا رہی ہے ان کے خلاف ڈرون حملے بھی کئے جا سکیں،انہوں نے کہاکہ اسامہ بن لادن ،ملاعمر او رملامنصورکی پاکستان سرزمین پر موجودگی سے دنیا سوالات اٹھارہی ہے اس لئے ہر قیمت پر دہشت گردی کو ختم کرناہوگا اور پنجاب میں سترفیصد دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور تربیت گاہوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی شروع کرنی ہوگی انہوں نے کہاکہ بھارت ایران اور افعانستان کے کے تعلقات بہتری جانب بڑھ رہے ہیں یہ ہماری سیاسی قیادت کے لئے امتحان ہے اور ہمیں جذباتی فیصلوں کی بجائے عقل وفہم سے کام لیناہوگا تاکہ پاکستان دنیا میں سیاسی تنہائی کا شکارنہ ہوجائے میاں افتخار حسین نے کہاکہ ہمیں اپنے پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کے لئے آگے بڑھناہوگا اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے طالبان کی نئی لیڈرشپ سے رابطے کرناہونگے اوران اقدامات میں ایران ،بھارت اور افغانستان کو شامل کرناہوگا میاں افتخار حسین نے آف شور کمپنیوں کے حوالے سے بتایاکہ اے این پی نہ صرف آف شو ر کمپنیوں کی تحقیقات بلکہ قرضے معاف کرنے والوں پر بھی ہاتھ ڈالنے کا مطالبہ کرتی ہے ، انہوں نے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے احتساب کو موم کی ناک بنا کر رکھ دیاہے اور اپنوں کے بچاؤ کے لئے آئے روز ان قوانین میں تبدیلیاں لائی جارہی ہیں احتساب کمیشن کے چیئرمین ان ہی اختلافات کے باعث مستعفی ہوچکے انہوں نے کہاکہ ہم حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کریں گے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ قوم سے جو وعدے کئے گئے اس کو عملی جامہ پہنایاجائے، انہوں نے کہاکہ وزیرستان کے متاثرین کسمپرسی کا شکارہیں ان کی بحالی کے حوالے سے نہ تو مرکزی حکومت اورنہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ہیں، انہوں نے کہاکہ متاثرین کی جلد باعزت واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختون خوا کا حصہ بناکر ایف سی آر کے کالے قانون کا خاتمہ کیاجائے میاں افتخار حسین نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی ضرورآئی ہے لیکن اس کے مقابلے میں ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی ہے جو تشویشناک امرہے حکومت کو چاہئے کہ ٹارگٹ کلنگ کے شکار شہریوں کو سرکاری شہیدکا درجہ دیاجائے تاکہ دہشت گردوں کو پیغام پہنچ سکے کہ حکومت الرٹ ہے اوران کی حکمت عملی سے باخبرہے، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں خواتین کبھی اپنے جائز حقوق کیلئے سڑکوں پر نہیں آئیں کیونکہ یہ ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نرسوں کے احتجاج پر پی ٹی آئی اس میں شریک ہوئی ہے اوران کے مطالبات کے حق میں ہے لیکن یہاں پہلی بار خواتین ورکروں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور انہیں جیلوں میں بند کیاگیا اورصوبے کی اقدار و روایات کو پامال کیا گیا ، انہوں نے کہاکہ کپتان تخت اسلام آباد کیلئے مہینوں دھرنا دے سکتے ہیں تو جائز حقوق کیلئے دھرنے دینے والے پختونخوا کے عوام کی بھی خبر لیں ۔