مورخہ : 22 جون 2016 بروز بدھ

اسمبلی میں وزراء کی ہاتھاپائی صوبے کی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔حیدر خان ہوتی
تبدیلی کے دعویدار عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا بھی بھول گئے ہیں۔
صوبے کی اعلیٰ بیوروکریسی کو کام کرنے نہیں دیاجارہاہے اورایک کے بعد ایک اعلیٰ آفیسر کومستعفی ہونے پر مجبورکیاجارہاہے۔

پشاور( پریس ریلیز ) سابق وزیراعلیٰ او راے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے صوبائی اسمبلی میں وزراء کی ہاتھاپائی اورگالم گلوچ کے واقعے کو صوبے کی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین باب قراردیتے ہوئے کہاہے کہ تبدیلی کے دعویداروں کو دھرنے اور کنٹینرکی عادتیں اسمبلی کے اندر زیب نہیں دیتیں ،حکمرانوں نے اسمبلی کے تقدس کو پائمال کرکے پوری دنیا میں پختونوں کے سر شرم سے جھکادیئے ہیں ، صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے ، خیبرلیکس سکینڈل کو چھپا یا جارہاہے، حکومت اپنے اراکین اسمبلی کے الزامات سے منہ چھپائے پھررہی ہے ،صوبے کی اعلیٰ بیوروکریسی کو کام کرنے نہیں دیاجارہا’’ پیڈو ‘‘ کے چیئرمین شکیل درانی کے استعفیٰ سے بجلی پیداوار کے منصوبے متاثرہوں گے ان کے اٹھائے گئے الزامات کا جواب بھی دینا ہوگا بدھ کے روز ہوتی ہاؤس مردان میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ 2013ء تک صوبائی اسمبلی میں شاندار روایات پر عمل درآمد ہوتارہا اپوزیشن کے ساتھ باہمی احترام کا رشتہ قائم تھا اب تو نام نہاد تبدیلی والوں نے سب کچھ بدل کررکھ دیاہے اپوزیشن تودرکنار حکومت کے وزراء اور اراکین آپس میں مشت وگریباں ہیں اور کھلے عام گالیاں دینے اوردھمکیوں میں عار محسوس نہیں کرتے نئے پاکستان کے دعویدار یہ بھول جاتے ہیں کہ پختون خوا اسمبلی میں کبھی بھی ایسی غلیظ زبان استعمال نہیں کی گئی اے این پی کے صوبائی صدر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سب سے افسو ناک پہلو یہ بھی ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی موجودگی میںیہ سب کچھ ہوتارہا اور وہ خاموش تماشائی بنے رہے انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ نہ صرف صوبائی حکومت کے سربراہ ہیں بلکہ لیڈر آف دی ہاؤس بھی ہیں اس لئے دونوں حیثیتوں میں انہیں معاملے کو خوش اسلوبی سے ختم کرنے کے لئے کردار اداکر ناچاہئے تھا لیکن اپنے مثبت کردار کی بجائے وزیراعلیٰ کی اسمبلی سے یوں خاموشی سے چلے جانا بھی انہتائی افسوس ناک امرہے انہوں نے کہاکہ یہ واقعہ صوبے کی پارلیمانی تاریخ کا بدنما داغ ہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پی ٹی آئی والے دھرنے اور کنٹینرکی عادتیں اسمبلی کے اندر زیب نہیں دیتیں وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا بھی بھول گئے ہیں انہوں نے کہاکہ اسمبلی کے تقدس اوریہاں کے روایات کو برقراررکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے انہوں نے کہاکہ اچھی طرز حکمرانی کے دعویداروں کی حالت یہ ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر جوڈیشل تحقیقات کا تو مطالبہ کیاجارہاہے لیکن خیبرلیکس کا معاملے کو دبایا جارہاہے اور ابھی تک اس سکینڈل کی رپورٹ شائع نہیں کی گئی تحریک انصاف کے اپنے اراکین اسمبلی اور وزراء کے الزامات کی بوچھاڑ جاری ہیں اور حکومت ان سے منہ چھپائے پھررہی ہے انہوں نے کہاکہ صوبے کی اعلیٰ بیوروکریسی کو کام کرنے نہیں دیاجارہاہے اورایک کے بعد ایک اعلیٰ آفیسر مستعفی ہونے پر مجبورکیاجارہاہے احتساب کمیشن کے ڈی جی کے بعد انٹی کرپشن کے ڈائریکٹر ضیاء اللہ طورو کو نشانہ بنایاگیاکیونکہ وہ حکمران ٹولے کے خلاف بلین ٹری سومانی کی سکینڈل کی تحقیقات شروع کی تھیں انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز پختون خوا انرجی ڈیوپلمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو)کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شکیل درانی اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ان کے الزامات بلاتاخیر تحقیقا ت ہونی چاہئے انہوں نے کہاکہ شکیل درانی کے استعفیٰ سے بجلی پیداور کے منصوبے متاثرہوں گے حکومت نے اپنی اناہلی کے باعث صوبے کے عوام ایک اعلیٰ آفسیر کی خدمات سے محروم کردیئے گئے ہیں۔