2016 July-2016 ڈیڑھ کروڑ کی امدادچترال متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے

ڈیڑھ کروڑ کی امدادچترال متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے

ڈیڑھ کروڑ کی امدادچترال متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے

مورخہ : 4.7.2016 بروز پیر

ڈیڑھ کروڑ کی امدادچترال متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ سردار حسین بابک
چترال میں زلزلے اور سیلابوں نے تباہی مچارکھی ہے جبکہ مرکزی و صوبائی حکومتیں صرف اعلانات تک محدود ہیں
نقصانات کا تخمینہ لگا کر فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جانی چاہئیں، تاکہ متاثرین کی بحالی کو یقینی بنا یا جا سکے

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے چترال میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ہونے والی تباہی اور بھاری جانی نقصان پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بارشوں سے لوگوں کی ذاتی املاک کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کیطرف سے چترال میں اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کیلیے ڈیڑھ کروڑ روپے کے اجراء کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا ہے کہ آفت اور مصیبت کی اس گھڑی میں چترال کے غریب اور آفت زدہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی چترال میں زلزلے اور سیلابوں نے تباہی مچادی ہے اور مرکزی اور صوبائی حکومت کے وعدوں اور اعلانات کے باوجود وہاں کے عوام ابھی تک ان نقصانات اور آفات کے نرغے میں ہیں۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر نقصانات کا تخمینہ لگا کر فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنی چاہئیں۔
سردار بابک نے کہا کہ مریضوں کے علاج ، انفراسٹرکچر کی بحالی اور بے گھر اور بے سروسامانی کی حالت میں بسنے والوں کی مدد کیلئے امدادی ٹیمیں بھیج کر فوری طور پر سرگرمیاں شروع کی جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وزیر اعلیٰ کو چترال کے عوام کے پاس ہونا چاہیے اور ساری سرکاری مشینری کو الرٹ کرنا چاہیے تاکہ وہ فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں عملی اقدامات کیساتھ عوام کو ریلیف پہنچا سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے چترال کا دور دراز کا علاقہ قدرتی آفات کی زد میں ہے۔ اور دوسری طرف حکومتوں کی عدم توجہی اور بے حسی کی وجہ سے وہاں کے عوام پے در پے مصیبت اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مصیبت اور مشکل کی اس گھڑی میں عوام ، ملکی اور غیر ملکی سرکاری تنظیمیں اور صاحب ثروت لوگ بڑھ چڑھ کر چترال کے غریب عوام کی خدمت جاری رکھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر فوری طور امدادی سرگرمیاں بحال رکھنی چاہئیں اور ماضی کی طرح زبانی جمع خرچ کے وعدے اور اعلانات سے اجتناب کر کے لوگوں کو حقیقی معنوں میں سہولیات بہم پہنچائی جائیں ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ حکومتوں کو تمام وسائل اور ذرائع جنگی بنیادوں پر بروئے کار لا کر ان سخت حالات میں ماتثرین کی مدد کرنی چاہیے۔

شیئر کریں