مورخہ یکم جولائی 2016ء بروز جمعہ

لوڈ شیڈنگ کا جن بے قابو ہو چکا ہے، عوام اذیت سے دوچار ہیں، ایمل ولی خان
مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں
لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کی جائیں تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں۔
صوبائی حکومت اے این پی کے شروع کردہ بجلی کے تمام منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھے تا کہ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے قیامت خیز گرمی کی شدید لہر اور ماہ صیام میں غیر اعلانیہ اور ناروا لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ، پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ شدید گرمی اور ماہ صیام میں صوبے کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی ترسیل بند کر دی گئی ہے اور غیر اعلانیہ و ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ، انہوں نے کہا کہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں جبکہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اس معاملے میں آنکھیں موند رکھی ہیں ،اور دونوں حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو رمضان کی آمد سے قبل لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کرنی چاہئیں تھیں تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسرکی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جاتے اور عوام کو لوڈ شیڈنگ کے اس کرب سے نجات دلائی جاتء تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جس کے باعث عوام کو دیگر پریشانیوں کے ساتھ ساتھ لوڈ شیدنگ کا عذاب بھی جھیلنا پڑا ایمل ولی خان نے کہا کہ مرکز کو اپنی تمام تر توجہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور بجلی کی فراہمی پر دینی چاہیے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مسئلے کو مزید الجھانے کی بجائے اسے حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ،اور غریب اور پسے ہوئے لوگوں کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافے سے اجتناب کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بھی اے این پی کے شروع کردہ بجلی کے تمام منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھنا چاہیے ،تا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر دونوں حکومتیں ایکدوسرے پر تنقیدکی بجائے مسئلے کے حل کیلئے ایکدوسرے کا ساتھ دیں تو عوام کو سہولیات ملنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔