سردارحسین بابک،  صوبائی جنرل سیکرٹری اے،این پی پختونخوا

علم وتعلیم کی ضرورت،اہمیت اورافادیت سے کوئی بھی ذی شعورانکارنہیں کرسکتااورآج تو پوری دنیا کی تعمیر وترقی کا انحصاربھی علم وتعلیم پرہے۔ آج قوموں کی اقتصادی، معاشی،سیاسی، ثقافتی اورتہذیبی ترقی کا پیمانہ اور اشاریہ بھی معیاری تعلیم سے ہی ناپاجاتا ہے، جوقوم تعلیم اور جدید علوم کے میدان میں آگے ہوگی وہ زندگی کے دیگرشعبوں میں بھی ترقی کے زینے پرکھڑی ہوگی، مگر تعلیم کا اصل مقصد صرف اس قدر ہے کہ ہم میں علم کے سلسلے میں ذوق سلیم اور اطوار کے سلسلے میں خوبی پیدا ہو۔ ضروری نہیں کہ صرف اسی شخص کوشائستہ یا مہذب یا دوسرے لفظوں میں مثالی طورپر تعلیم یافتہ قرار دیاجائے جو بہت پڑھا لکھا اور بڑا عالم فاضل ہو۔ تعلیم اور تہذیب کا آئینہ تو اسی شخص کو قراردیں گے جو پسند کے قابل چیزوں کو اچھا سمجھے اور ان چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھے جو پسند کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ گویا علم کا مذاق صحیح اور علم کی خوش ذوقی یہ جاننے میں ہے کہ کن چیزوں سے محبت کی جائے اور کن سے نفرت کی جائے اس لیے وہی شخص تعلیم یافتہ کہلائے گا جس کی پسند نا پسند ٹھیک ہوں گی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو آج سے ایک سو چھ سال قبل ہمارے پختون معاشرے میں شائد بہت سے پڑھے لکھے پختون موجود رہے ہوں مگر ان میں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اپنے ساتھ اپنی قوم میں بھی علم و تعلیم کا شعور اجاگر کیاجائے۔ بہت سے خان خوانین، مذہبی علماء اور جاگیردار تھے مگر کسی نے بھی اپنی قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے نہ تو اپنی جیب سے ایک پیسہ تک خرچ کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں اپنا اخلاقی اور علمی کردار ادا کیا، لہذا اس بات کا کریڈٹ بھی فخرافغان حضرت باچاخان بابا کو جاتا ہے جنہوں نے اس زمانے میں سب سے پہلے یہ بات محسوس کی کہ جب تک کوئی قوم تعلیم یافتہ نہیں ہوگی اس وقت تک ان کی آزادی اور معاشرتی ترقی ناممکن ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جس وقت اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے ہیڈماسٹر وگرم اور ان کے بھائی ڈاکٹر وگرم کی تعلیم دوستی اور اس سلسلے میں ان کی قربانیاں دیکھیں تو ان دونوں بھائیوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ باچاخان بابا کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ اپنی قوم اور وطن کی خدمت کروں۔ یہ وہ دور تھا کہ پختونوں میں تعلیم سے دوری اور جہالت بہت بڑھ گئی تھی۔ نہ حکومت کی جانب سے پختونوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا کوئی معقول انتظام تھا اور نہ ہی قوم کے صاحب ثروت افراد میں اس بات کا احساس اور جذبہ تھا کہ اپنی قوم کو جہالت کے ان اندھیروں سے نکالنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت سکولز کھولے جائیں۔
اگر کسی گاؤں میں پرائمری سکولز تھے بھی تو وہاں بھی ہمارے مولوی حضرات کسی کو جانے نہیں دیتے تھے، مگر باچاخان بابا اپنی قوم پرمرمٹنے والی ہستی تھے وہ قوم کے تمام بچوں کو اپنے ہی بچے سمجھتے تھے لہذا قوم کے بچوں کو علم و تعلیم کی روشنی سے روشناس کرانے کے لیے انہوں 1910ء میں مولوی عبدالعزیز کے ساتھ اتمانزئی چارسدہ میں پہلے مدرسہ کی بنیاد رکھی اور دیگر مدارس کے قیام کے لیے دوسرے علاقوں کا دورہ شروع کردیا اور پختونوں کی توجہ علم وتعلیم کی جانب راغب کردی اور ان کے دلوں میں علم کی ضرورت کا احساس پیدا کردیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی مدارس قائم کردیے گئے جس کی مخالفت اس وقت کے ملاؤں نے شروع کردی اور پختونوں کو اس پروپیگنڈہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ’’سبق د مدرسې وائی، دپارہ د پیسې وائی، جنت کښې بہ ئې ځائې نۀ وي،پۀ دوزخ کښې بہ غوپې وهي‘‘مگر باچاخان بابا اور ان کے ساتھی اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے اور آزاد سکولوں کے قیام کا سلسلہ جاری رکھا اور10اپریل 1921ء میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی مدد سے اتمان زئی میں آزاد سکول کی بنیاد رکھی جس میں قاضی عطااللہ خان، میاں احمد شاہ، عبداللہ شاہ، حاجی عبدالغفارخان، محمد عباس خان، عبدالاکبرخان اکبر، تاج محمد خان اور خادم محمد اکبر ان کے ساتھ رہے۔ان مدارس کے قیام کا اصل مقصد پختونوں میں مروج غلط رسوم ورواج کا خاتمہ، جنگ وجدل اور تشدد سے نفرت اور ان میں اپنی قومیت یعنی اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور اپنی مٹی سے پیار ومحبت کا جذبہ اور احساس پیدا کرنا تھا۔ چونکہ یہ ایک مشکل کام بھی تھا اور اکیلے ایک فرد کے بس کی بات بھی نہیں تھی لہذا اس اصلاحی کام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے ایک تنظیم یا انجمن کی ضرورت لازمی تھی۔ چنانچہ باچاخان بابا اور ان کے ساتھیوں نے باہمی مشاورت سے گیارہ اپریل1921ء اصلاح الافاغنہ کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد رکھ دی جس کے ممبران میں محمدعباس ، خان، صدر عبدالغفار خان(باچاخان)، حاجی عبدالغفارخان(اتمانزئی)، حاجی محمد اکرم خان(خان مائی)، جمعدارنورمحمد(ترنگزئی)، محمدزرین خان(ترنگزئی) عبدالاکبرخان اکبر(عمرزئی)، غلام محی الدین(تنگی)، فخرقوم میاں صاحب، میاں جعفرشاہ کاکاخیل، فضل کریم(نرئی قلا)، فضل ربی(بدرگہ)، میاں احمدشاہ قاضی خیل، میاں عبداللہ شاہ قاضی خیل، خادم محمداکبر(چارسدہ)، تاج محمدخان(چارسدہ)، مولانا شاہ رسول گڑھی امازئی)، شادمحمد(میرزو) شیربھادر(کوترپانڑ)، جلیل خان، خوشحال خان(باریکاب)، شاہ پسندخان(چارغولئی)، امیرممتازخان،بیرسٹر محمدجان(بنوں)، محمدرمضان(ڈیرہ اسماعیل خان) حکیم عبدالسلام(ہری پور)، میاں صاحب(پکلئی)، قاضی عطااللہ(مردان)، ثمین جان(محب بانڈہ)، علی اصغرخان ایڈووکیٹ(ہزارہ) اورآفندی صاحب(ملاکنڈ) شامل تھے۔ چونکہ ایک تو سکول کے اساتذہ بھی کم تھے اور دوسری طرف ان کی تنخواہیں بھی اتنی نہیں تھیں تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے باچاخان بابا خود بھی لڑکوں کوپڑھایا کرتے تھے۔
کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آج تو ملک کے کونے کونے میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے مگر آج سے ایک سو چھ سال قبل پختونوں کے معاشرے میں جو تعلیمی زبوں حالی تھی، جہالت تھی تو اس بات کا کریڈٹ بھی باچاخان اور ان کے خدائی خدمتگاروں کو جاتا ہے کہ انہوں نے ہرقسم کی مشکلات قید وبند کی صعوبتوں، فرنگیوں اور ان کے زرخرید ملاؤں کی جانب سے علم و تعلیم کی سخت مخالفت کے باوجود بھی پختونوں کی اصلاح اور ان میں علم اور تعلیم کا جذبہ اور احساس پیدا کرنے میں ایک تاریخ ساز کردار اداکیا۔ آج کی اے این پی اسی انمجن اصلاح الافاغنہ اور خدائی خدمتگارتحریک کی نئی شکل اور تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے گذشتہ دور حکمرانی میں تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے صوبے میں نو یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ 44 کالجز اور سینکڑوں اسکولوں کو اپ گریڈ کیا۔ لہذاہمیں من حیث القوم آج کے دن یہ عہد کرنا ہوگا کہ موجودہ انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کومات دینے کے لیے اپنی قوم کے بچوں کو جدید علوم اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ثابت قدم رکھیں گے اور اے این پی کے جھنڈے تلے اپنے خدائی خدمتگاروں کے ارمانوں کو پورا کر کے دکھائیں گے
میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اُجالا
مجھے کیادبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہورہاہوں توُ غروب ہونے والا