مورخہ : 1.4.2016 بروز جمعہ

صوبہ خیبر پختونخوا سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی طور پر پنجاب کی بالا دستی اور استحصال کا شکار ہے۔ غلام احمد بلور
پشتونوں کو دہشتگردی کے علاوہ حکمرانوں کے استحصالی اور منفی رویے کا سامنا ہے۔
عمران خان سے صوبے کے مفادات کے تحفظ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی شمولیتی تقریب سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور شدت پسندی سمیت صوبہ خیبر پختونخوا اقتصادی اور سیاسی طور پر بھی پنجاب کی بالا دستی اور مسلسل استحصال کا شکار ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت چائنا پاک اکنامک کاریڈور کیساتھ صوبے اور فاٹا کے ساتھ ہونے والی زیادتی ہے جس کے دوران عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھا گیا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل یوتھ آرگنائزیشن سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے زیر اہتمام شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پنجاب کی حکمرانی اور بالا دستی کیلئے ماضی میں پاکستان کو توڑا گیا تاہم اس سانحے اور رویے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور طبقہ اشرافیہ اب بھی اُسی فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ تقریب میں اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی ، جنرل سیکرٹری سرتاج خان ، این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ اور این وائی او سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر سعید خان بھی موجودتھے۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا سمیت پاکستان میں جہاں بھی پشتون قیام پذیر ہیں ان کو حکمرانوں کے استحصالی اور منفی رویے کا سامنا ہے ۔ ہم دہشتگردی اور شدت پسندی کی مسلسل لہر کے علاوہ پاکستان اور اس کے حکمرانوں کے ہاتھوں سیاسی امتیاز اور اقتصادی زیادتی کا شکار رہے ہیں اس کے باوجود عمران خان جیسے رہنما دُنیا کو یہ باور کرانے میں مصروف ہیں کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں حالانکہ صوبے کو دہشتگردی ، بھتہ خوری ، بیروزگاری ، مہنگائی اور بدانتظامی کا سامنا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور جیسے منصوبے کے ساتھ صوبے اور فاٹا کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے اور اس رویے سے عوام میں سخت بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان سے صوبے کے مفادات کے تحفظ کی توقع نہیں کی جا سکتی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام کا ان پر اعتماد اُٹھ چکا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ پشتون جوانوں ، طلباء اور دیگر صاحب الرائے حلقوں میں قوم پرستی کے شعور میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا ہے اور نئی نسل جان چکی ہے کہ تبدیلی کے نام پر عوام کو ورغلانے والوں نے صوبے ، عوام اور نئی نسل کیلئے عملاً کچھ بھی نہیں کیا۔