مورخہ : 4.3.2016 بروز جمعہ

عوام جان گئے ہیں کہ صوبے اور خطے کی نمائندگی اے این پی کے بغیر دوسری قوت نہیں رکھتی۔ میاں افتخار حسین
انتہا پسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک نیشنل ایکشن پلان پر پوراعمل درآمد نہیں کیا جاتا۔
سن 2013 کے الیکشن میں اے این پی کا گھیراؤ کیا گیا۔ صوبائی حکومت کو عوام اور صوبے سے کوئی دلچسپی نہیں ۔
شاہ کوٹ نوشہر ہ میں تنظیمی اجلاس سے خطاب

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی بعض حکومتی اقدامات کے باوجود اب بھی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کا حل اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور اس کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیلایا نہیں جاتا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق نوشہرہ کے علاقے شاہ کوٹ میں پارٹی کے ایک تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جاری حالات نے خطے خصوصاً پشتونوں کو ناقابل برداشت جانی اقتصادی اور نفسیاتی نقصان پہنچایا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں دیگر کے علاوہ اے این پی کے تقریباً ایک ہزار کارکنوں اور عہدیداروں کو شہادتیں بھی شامل ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بعض ریاستی اقدامات کے باعث دہشتگردی کے واقعات میں کمی ضرور آئی ہے۔تاہم محض بڑے حملوں سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے مراکز اب بھی موجود اور فعال ہیں۔ اُوپر سے داعش کا خطرہ اور پھیلاؤ بھی باعث تشویش ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے لازمی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر کسی مصلحت یا تاخیر کے بغیر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اس کا دائرہ کار ملک کے تمام صوبوں اور علاقوں تک پھیلا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن مہم کے دوران اے این پی کا باقاعدہ گھیراؤ کیا گیا جس کے باعث نتائج متاثر ہوئے اور ایسے لوگوں کو صوبے پر مسلط کیاگیا جن کو صوبے اور عوام کے مفادات اور تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی تاہم تین سالہ دور حکومت کے بعد عوام جان چکے ہیں کہ صوبے کی نمائندگی اے این پی کے بغیر دوسری کوئی قوت نہیں کر سکتی۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اب بھی خطے کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اور عوام کے تحفظ صوبے کے مفادات اور امن کے قیام کیلئے پارٹی اپنا تاریخی کردار آگے بڑھاتی رہے گی۔ اُنہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تنظیمی سرگرمیاں بڑھائیں، خود کو عوام سے رابطے میں رکھیں اور پارٹی کا پیغام عوام تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔