2016 صوبائی اور مرکزی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر مکمل عمل درآمد نہ کر سکی

صوبائی اور مرکزی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر مکمل عمل درآمد نہ کر سکی

صوبائی اور مرکزی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر مکمل عمل درآمد نہ کر سکی

Press Briefing

مورخہ : 16.1.2016 بروز ہفتہ

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے پی ایس سانحہ کے بعد مذہبی ، عسکری اور سیاسی قیادت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے ایک بہتر ماحول کے تحت 20نکات تیار کر چکے تھے لیکن صوبائی اور مرکزی حکومت ان نکات پر مکمل عمل درآمد نہ کر سکی جس کی وجہ سے دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں ،اپریشن ضرب عضب دیگر اپریشن کی نسبت کامیاب رہا ہے اور اس کے نتیجے میں غیر ملکی دہشت گردوں کے خاتمے سے عارضی امن تو قائم ہوا لیکن مستقل بنیادوں پر امن کے قیام کیلئے پورے پاکستان کی سطح پر اپریشن نا گزیر ہے اور کہا کہ پنجاب میں 70کے قریب کالعدم تنظیمیں کام کر رہی ہیں ان تنظیموں کے خلاف بھی اپریشن ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب کرک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا قبل ازیں انہوں نے پارٹی کے صوبائی جوائنٹ سیکرٹری خورشید خٹک اور ضلعی صدر سجاد احمد و پارٹی کے تحصیل کونسلر شاہد اللہ کے ہمراہ سابق صوبائی وزیر فرید طوفان کے گھر جا کر ان کی والد ہ ماجدہ کی وفات پر تعزیت کی صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ سوات اپریشن کے دوران 25لاکھ سے زائد متاثرین کو ہماری حکومت سے باعزت مقام اور سہولیات دئے لیکن اپریشن ضرب عضب کے 10سے 15لاکھ متاثرین نے امن کے قیام کیلئے عظیم قربانی دی اور وہ آج بے سروسامانی کی علم میں انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں انہوں نے اپریشن متاثرین کو بحفاظت اپنے علاقوں تک پہنچانے اور ان کے نقصانا ت کے فوری ازالے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جامع مذاکرات اولین ترجیح ہونی چاہیئے اور ہم اس سلسلے میں صوبائی و مرکزی حکومت سے بھرپور تعاون کرینگے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی دور حکومت میں کرک میں عوامی مطالبے پر یونیورسٹی اور ماڈل سکول کے منظوری ہوئی افتتاح کیئے گئے لیکن سیاسی سازشوں کے شکار ان ایشو ز پر عوام کا اٹھ کھڑا ہونا ہو گا اور مزید کہا کہ اے این پی حکومت نے کرک میں آئل ریفائنری ، انڈسٹرئل سٹیٹ جیسے میگا منصوبے کی منظوری دی تھی اب بھی ہم کرک کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ان میگا منصوبوں کو کس کی حکومت نے تبدیل کیا ؟ عوام اس کا جواب ان سے ضرور پوچھیں انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی رہداری کے حوالے سے وزیر پاکستان نے ہماری تشویش کافی حد تک ختم کر دی ہے اور مغربی روٹ کی تعمیر میں سے خیبر پختونخوا کو فائدہ ہو گا اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی نے سب سے پہلے اقتصادی رہداری سے محرومی کے خلاف فروری 2015میں آواز اٹھائی تھی اب بھی کہتا ہوں کہ اگر خیبر پختونخوا کو اس منصوبے سے محروم کیا گیا تو یہ ہمارا معاشی قتل ہو گا ۔

شیئر کریں