2016 اگر داعش کا راستہ نہیں روکا گیا تو خطہ بدلتے حالات کے تناظر میں تباہ کن صورتحال سے دوچار ہو جائیگا ۔ میاں افتخار حسین

اگر داعش کا راستہ نہیں روکا گیا تو خطہ بدلتے حالات کے تناظر میں تباہ کن صورتحال سے دوچار ہو جائیگا ۔ میاں افتخار حسین

اگر داعش کا راستہ نہیں روکا گیا تو خطہ بدلتے حالات کے تناظر میں تباہ کن صورتحال سے دوچار ہو جائیگا ۔ میاں افتخار حسین

مورخہ : 14.1.2016 بروز جمعرات

اگر داعش کا راستہ نہیں روکا گیا تو خطہ بدلتے حالات کے تناظر میں تباہ کن صورتحال سے دوچار ہو جائیگا ۔ میاں افتخار حسین
اوباما کا یہ کہنا بہت الارمنگ ہے کہ داعش سے افغانستان اور پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ لگ یہ رہا ہے ہم پر پھرسے نزلہ گرنے والا ہے۔
* حالات بتا رہے ہیں کہ انتہا پسند داعش کی چھتری تلے پھر سے متحد ہو گئے ہیں۔ کاش ہمارے اکابرین کی بات مانی جاتی ۔
کاریڈور کے مغربی روٹ پر کسی مصلحت یا خاموشی کا سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم اپنے اعلان اور سیاسی قوتوں کے مطالبے کو یقینی بنائیں۔ ( پبی نوشہرہ کے تنظیمی عہدیداران سے خطاب)

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اگر بدلتے حالات کے تناظر میں داعش کے یقنی خطرے کا راستہ روکا نہیں گیا اور خطے کے ممالک نے حالیہ مفاہمتی عمل اور رابطوں کو مثبت انداز میں آگے نہیں بڑھایا تو پورا علاقہ پھر سے بدترین حالات کا شکار ہو جائے گا۔ کیونکہ لگ یہ رہا ہے کہ انتہا پسند داعش کی چھتری کے نیچے پھر سے جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں اور وہ ایک نئی جنگ لڑنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔
پبی میں اے این پی ضلع نوشہرہ کے تنظیمی عہدیداران سے باچا خان اور ولی خان کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صدر اوباما کا یہ کہنا بہت الارمنگ ہے کہ داعش سے افغانستان اور پاکستان کو طویل المدتی خطرات لاحق ہیں ۔ لگ یہ رہا ہے کہ داعش کی شکل میں ہم پر پھر سے نزلہ گرنے والا ہے اور انتہا پسند اپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے بعد جس انتشار اور نقصان کا شکار ہو گئے تھے اب داعش کی شکل میں پھر سے متحد ہونے لگے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر اوباما کی پیشنگوئی ، حالیہ دوطرفہ حملوں اور نئی صف بندی کی اطلاعات کے بعد ہمیں متحرک اور چوکس رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ عملی اقدامات اور پڑورسی ممالک کے تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اس خطرے سے نمٹا جائے اور علاقائی امن اور استحکام کیلئے جس مفاہمتی عمل کا آغاز ہو گیا ہے اس کو بعض رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے دوسروں کی جنگوں میں کودنے کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ اگر باچا خان اور ولی خان کی باتیں مانی جاتیں اور ہم عدم مداخلت اور غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے تو آج پاکستان اور پورے خطے کے حالات بالکل مختلف ہوتے اور علاقہ انتہا پسندوں کا مرکز نہیں بنتا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ بھارت ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ رابطے اور مثبت رویے بہت خوش آئند ہیں ۔ یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ پٹھان کوٹ اور جلال آباد کے واقعات کے بعد ماضی کے برعکس مثبت رد عمل اور رویے کا مظاہرہ کیا گیا اورتعاون پر مبنی رد عمل سامنے آیا۔
کاریڈور پر با ت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ یہ پورے پاکستان باالخصوص پختونخوا ، بلوچستان اور فاٹا کے عوام کیلئے معاشی اور معاشرتی انقلاب کا ایک سنہری موقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی نے اس پر ابتداء ہی سے بہت واضح اور دوٹوک موقف اپنایا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مغربی روٹ پر کسی بھی قسم کی مصلحت یا خاموشی کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اے پی سیز اور وزیر اعظم کے اعلانات اور مطالبات کے مطابق مغربی روٹ کے منصوبے کو فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے اور شکوک و شبہات کے خاتمے کیلئے وزیراعظم اپنے وعدے کے مطابق خود آگے آئیں۔ تاکہ اس منصوبے کے مزید متنازعہ بنانے سے بچایا جائے اور صوبوں کے خدشات کا یقینی ازالہ ممکن ہو سکے۔
میاں افتخار حسین نے اس موقع پر کارکنوں اور عہدیداروں کو تاکید کی کہ وہ باچا خان اور ولی خان کی برسی کیلئے بھر پور تیاری کریں کیونکہ یہ قائدین ہمارے محسن ہیں اور ان کی برسی ان کے شایان شان منائی جائیگی۔ تنظیمی اجلاس سے ضلع نوشہرہ کے صدر جمعہ خان نے بھی خطاب کیا۔

شیئر کریں