مورخہ : 13.2.2016 بروز ہفتہ

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ حکومتی سطح پر داعش کی غیر موجودگی سے انکار کیوں کیا جا رہا ہے۔ میاں افتخار حسین
اس رویے نے کئی سوالات کو جنم دے رکھا ہے۔ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں۔
وزیر اعظم سمیت دیگر کا باچا خان یونیورسٹی سے متعلق رویہ لاتعلقی اور خاموشی پر مبنی ہے۔
احتساب کے بارے میں ہمارے خدشات اور تحفظات کا آج دیگر حلقے بھی اعتراف کر رہے ہیں۔ نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ داعش اور ایسی دیگر قوتوں کی پاکستان میں موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان ، ابہام اور غیر ضروری وضاحتوں نے بہت سے شکوک کو جنم دیا ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ حکومت واضح موقف کی بجائے داعش کی موجودگی سے انکار کی پالیسی پر کیوں عمل پیرا ہے۔
نوشہرہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ داعش کی موجودگی سے مسلسل انکار کے حکومتی اور ادارہ جاتی رویے نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے حالانکہ زمینی حقائق اور کارروائیاں حکومتی وضاحتوں کے برعکس ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر مگر کی پالیسیوں نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کے نتائج کو متاثر کر دیا ہے اور اسی کا نیتجہ ہے کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس دہشتگردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور خدشات اور واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔
باچا خان یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں سے متعلق کئے گئے ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سمیت دیگر اعلیٰ حکام کا باچا خان یونیورسٹی سے متعلق رویہ لا تعلقی اور خاموشی پر مبنی ہے۔ اگر چہ یونیورسٹی پیر سے کھل رہی ہے تاہم سیکیورٹی اور مراعاتی پیکج سمیت دیگر ضروریات سے یونیورسٹی تاحال محروم ہے اور محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے اس واقعے کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اے پی ایس کی طرح باچا خان یونیورسٹی کو مثالی ادارہ بنایا جاتا، خصوصی توجہ دیکر پیکج کا اعلان کیا جاتا اور وزیراعظم یونیورسٹی کا دورہ کرکے حملہ آواروں کو پیغام دیتے کہ ریاست اور قوم واقعتاً امن کے قیام میں سنجیدہ ہے۔
اُنہوں نے احتساب سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ احتساب کمیشن کے بارے میں ہمارے تحفظات اور خدشات کا آج حکومتی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے اور کمیشن کی کارکردگی اور طریقہ کار حکومتی ، سیاسی اور قانونی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے، یہ اس جانب اشارہ ہے کہ ہمارے خدشات درست تھے۔