2016 یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام سیاسی حلقوں میں حقوق کے حوالے سے قوم پرستی کی ہوا چل نکلی ہے، سردار حسین بابک

یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام سیاسی حلقوں میں حقوق کے حوالے سے قوم پرستی کی ہوا چل نکلی ہے، سردار حسین بابک

یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام سیاسی حلقوں میں حقوق کے حوالے سے قوم پرستی کی ہوا چل نکلی ہے، سردار حسین بابک

12485840_985522744842739_8394668021421328759_o

مورخہ : 9.1.2016 بروز ہفتہ

یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام سیاسی حلقوں میں حقوق کے حوالے سے قوم پرستی کی ہوا چل نکلی ہے، سردار حسین بابک
موجودہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ، چھوٹے صوبوں کے حقوق مزید عصب کرنا ان کو ہضم نہیں ہو گا۔
پختونوں نے ملک و قوم کی خاطر بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور مزید اپنے حقوق عصب ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
ملک اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔ لہٰذا مرکزی حکومت منصفانہ رویہ اختیار کر ے‘ پنجاب لسانیت کے رویے پر عمل پیرا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ قوم پرستی کی ہوا چلی ہے اور پختونوں کے حقوق کے حصول کیلئے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت اور حالات نے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے مؤقف اور پالیسیوں کو درست ثابت کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج پختونوں کی سرزمین پر تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں پختونوں کے حقوق کی بات کر رہی ہیں جو کہ ہماری سیاست کی جیت اور تقلید ہے۔ پختونوں کے حقوق کی جنگ لڑنے پر باچا خان بابا اور ولی خان بابا اور ان کی تحریک کے ساتھیوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں، جیلیں کاٹی ہیں ، ان کی جائیدادیں ضبط ہوئی ہیں۔ ان پر غداری کے الزامات اور مقدمے درج ہوئے ہیں۔ لیکن وہ تمام تر سختیاں اور ذاتی نقصانات آج یہ ثابت کر رہی ہیں کہ وہ قوم کی خاطر تھیں اور راب رنگ لا رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور چھوٹے صوبوں کے حقوق مزید عصب کرنا ان سے ہضم نہیں ہو گا اور احساس کمتری اور احساس محرومی پانے والے صوبوں کی مخالفت اور مزاحمت کے سنگین نتائج کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں جس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوگی۔
اُنہوں نے کہا کہ چائنا پاک اقتصادی راہداری منصوبے پر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا ایکا پختونوں کی معاشی اور اقتصادی ترقی کیلئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اور اتفاق و اتحاد کی اس فضا کو برقرار رکھنے کیلئے اے این پی عملی طور پر کردار ادا کرتی رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونوں نے ملک و قوم کی خاطر بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور مزید اپنے حقوق عصب ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اُنہوں نے کہا کہ وسائل کے غیر منصفانہ تقسیم ملک کی ترقی اور سلامتی کا ضامن نہیں بلکہ ملک کو مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ جس کی ذمہ دار پنجاب کے حکمران اور سیاسی قیادت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک انتہائی طور پر اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ہے۔ لہٰذا مرکزی حکومت عاصبانہ روئیے کے بجائے منصفانہ رویہ اختیار کر لے تاکہ ملک کے پسماندہ اور مفلوک الحال اقوام عزت سے جینے کے قابل بن سکیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کی سیاسی قیادت حقیقی لسانیت پرست ہے اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی حکمرانی اور اپوزیشن دونوں پنجاب کے خود غرضانہ مفاد کیلئے یا تو لڑ رہے ہیں یا خاموش تماشائی بن گئے ہیں۔

شیئر کریں