مورخہ : 4.5.2016 بروز بدھ

یو ایس ایڈ سمیت دیگر اداروں کے سکالرشپ پروگرامز سے جنگ زدہ علاقوں کو مستفید ہونے دیا جائے۔ستارہ ایاز
ہائیر ایجوکیشن اور وفاقی حکومت نام و نہاد میرٹ اور شرائط پر پختونخوا ، فاٹا اور بلوچستان کو زیادتی کا نشانہ بنا رہی ہے۔
فل برائٹ سکالرشپ پروگرام کے دوران جنگ زدہ علاقوں کے اُمیدواروں کیساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں جائیگی۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما سینیٹر ستارہ ایاز نے یو ایس ایڈ کی فل برائٹ پراجیکٹ کی طرف سے ہائیر ایجوکیشن کے ذریعے 1200 افراد کیلئے سکالرشپ پروگرام میں صوبہ خیبر پختونخوا ، فاٹا اور بلوچستان کے اُمیدواروں کو نظر انداز کرنے کے حکومتی رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تین جنگ زدہ اور پسماندہ علاقوں کو اس پروگرام کا ترجیحی بینادوں پر حصہ بنایا جائے اور ان کیلئے کوٹہ مختص کیا جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا ہے کہ یو ایس ایڈ سمیت ایسے تمام متعلقہ ادارے ہائیر ایجوکیشن سمیت دیگر حکومتی اداروں کو ایسے سکالرشپ پروگرامز اس لیے دیتے آئے ہیں کہ دہشتگردی اور بدامنی کے شکار عوام کی مشکلات اور حق تلفی کا ازالہ کیا جاسکے تاہم یہ بات قابل مذمت ہے کہ نام و نہاد میرٹ اور پیچیدہ طریقہ کار کے ذریعے ان پراجیکٹس اور سہولیات سے ان علاقوں کے اُمیدواروں کو محروم رکھا جائے اور پنجاب کو اس سے مستفید ہونے دیا جائے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت باالخصوص وفاقی وزیر احسن اقبال اور ہائیر ایجوکیشن کا رویہ زیادتی پر مبنی ہے اور عملی طور پر ان جنگ ززدہ علاقوں کو نظر انداز کرنے کی روش اپنائی گئی جو کہ ناقابل برداشت ہے ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان جنگ زدہ علاقوں کیلئے نرم شرائط کے علاوہ خصوصی کوٹہ مختص کیا جاتا۔
اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ 1200 اُمیدواروں کی فہرست میں صوبے فاٹا اور بلوچستان کو ترجیحی بنیادوں پر کھپانے کو یقینی بنایا جائے اور ان کو نام و نہاد میرٹ اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے ان کو ان کے حق سے محروم کرنے کا رویہ ترک کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے اس رویے کے خلاف ہر فورم پر آواز اُٹھائی جائے گی۔