2016 یونیورسٹی سانحہ کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سردمہری اور سستی قابل تشویش ہے۔ میاں افتخار حسین

یونیورسٹی سانحہ کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سردمہری اور سستی قابل تشویش ہے۔ میاں افتخار حسین

یونیورسٹی سانحہ کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سردمہری اور سستی قابل تشویش ہے۔ میاں افتخار حسین

مورخہ : 27.1.2016 بروز بدھ

یونیورسٹی سانحہ کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سردمہری اور سستی قابل تشویش ہے۔ میاں افتخار حسین
یونیورسٹیوں کی حفاظت اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور باچا خان یونیورسٹی کو مثالی ادارہ بنایا جائے۔

 واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ بلیم گیم کی بجائے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جائنٹ ایکشن لیا جائے’ صدر اوباما بھی خطرات کی نشاندہی کر چکے ہیں۔
باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کے نام سے یادگاریں تعمیر کی جائیں اور دہشتگردوں کو پیغام دیا جائے کہ اُن کے مقاصد کو پورا ہونے نہیں دیا جائیگا۔

پشاور (پریس ریلیز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر کیے گئے حملے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی لاتعلقی اور رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے علاوہ تمام یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو نئے چیلینجز کے تناظر میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی کی حفاظت اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر پیکج دیا جائے اور تمام شہداء کے نام سے یادگار تعمیر کیے جائیں اور ایسے مزید اقدامات کیے جائیں جن کی بدولت شہداء کو یاد رکھا جا سکے تاکہ اس قسم کے عملی اقدامات کے ذریعے دہشتگردوں کو پیغام دیا جائے کہ ان کے مقاصد کو پورے ہونے نہیں دیا جائیگا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق اُنہوں نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی سمیت دیگر متعدد یونیورسٹیوں کو خطرات کے علاوہ مالی بحرانوں کا سامنا ہے۔ حالیہ سانحے کے بعد ضرورت اس بات کی تھی کہ یونیورسٹیوں کی حفاظت اور مالی ضروریات کی فراہمی سمیت دیگر درکار اقدامات پر ہنگامی توجہ دی جاتی تاہم کئی روز گزرنے کے باوجود اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی لاتعلقی یا سستی مزید سانحات کو جنم دے سکتی ہے۔ سردمہری پر مبنی حکومتی رویے نے بہت سے سوالات کو جنم دے رکھا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت دہشتگردی کی مد میں اربوں روپے صوبائی حکومت کو دستیاب ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس رقم سے یونیورسٹیوں کی حفاظت اور درکار سہولیات کی فراہمی کیلئے فائدہ اُٹھایا جائے تمام یونیورسٹیوں کی حفاظت اورترقی بالخصوص باچا خان یونیورسٹی کی حفاظت اور ترقی پر خصوصی توجہ اور خصوصی پیکجز فی الفور دیا جائے تاکہ حملہ آوروں کو پیغام دیا جائے کہ ان کے عزائم کو مکمل ہونے نہیں دیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرہ یونیورسٹی پر اتنی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اس کو مثالی یونیورسٹی بنایاجائے۔ ان تجاویز پر فوری عمل کی ضرورت ہے جو کہ انتظامیہ نے اپنی ضروریات اور سیکیورٹی کیلئے پیش کی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے مطالبے پر بھی عمل کیا جائے۔ دوسروں کے علاوہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے بھی مشکور ہیں کہ اُنہوں نے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ بلیم گیم کی بجائے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور اداروں کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ جائنٹ ایکشن میں کونسی بات یا چیز رکاوٹ ہے اس کی وضاحت ہونی چاہیے ۔ اُنہوں نے کہا کہ متوقع خطرات جن اداروں کو ہیں اُن کی حفاظت کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے کیونکہ خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اور ان خطرات کی دوسروں کے علاوہ صدر باراک اوباما بھی نشاندہی کر چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف سخت ترین کارروائیاں کی جائیں اور مزید تاخیر سے کام نہ لیا جائے ورنہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

شیئر کریں