مورخہ : 20.2.2016 بروز ہفتہ
یوم 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کو عالمی سطح پر منانا ایک اچھا اقدام ہے۔ اسفندیار ولی خان کا پیغام
* بنگال کے جوانوں کی مادری زبان کیلئے دی گئی تاریخی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو پشتو زبان سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے
* پشتون قوم کو اپنی زبان نہیں بھولنی چاہئے اوراس کو زندہ رکھنے اور اس کی ترویج کرنا چاہیے۔

پشاور( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے عالمی مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مادری زبانوں سے متعلق ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کے تمام قدیم اور جدیددور کے ماہرین تعلیم ، دانشور ، فلاسفر اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے۔ کیونکہ دُنیا بھر میں ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور سائنسی استعدادکا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کو عالمی سطح پر منانا ایک اچھا اقدام ہے تاہم اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے اور اسے ایک تحریک کی شکل دینا ضروری ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک پشتو زبان کا تعلق ہے دُنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں پختونوں اور پاکستان میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔ اُنہوں نے اپنے پیغام میں یہ زور دیا ہے کہ پشتون قوم کو اپنی زبان نہیں بھولنی چاہئے اوراس کو زندہ رکھنے اور اس کی ترویج و ترقی کیلئے پشتو لکھیں ، پشتو بولیں حتیٰ کہ خط و کتابت بھی پشتو میں کریں۔
آخر میں اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو پشتو زبان سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور ہماری ترقی کا راز پشتو زبان میں جدید تعلیم میں مضمر ہے ہمیں باقی شعبوں کے ساتھ ساتھ پشتو زبان کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہیے اوراے این پی پشتو زبان کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
اُنہوں نے بنگال کے ان جوانوں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا جنہوں نے مادری زبان بنگالی کو سرکاری زبان قرار دینے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جن کی قربانیوں کی بدولت اقوام متحد نے اس دن کو عالمی دن قراردیا اور آج ساری دُنیا میں یہ دن مادری زبان کی ترقی اور ترویج کیلئے منایا جاتا ہے۔