مورخہ 22مارچ 2016ء بروز منگل
ہسپتالوں کو انسولین اور ادویات کی بندش صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ایمل ولی خان
خیبر پختونخوا بحرانوں کا شکار ہے ،ہسپتالوں میں ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو تکالیف کا سامنا ہے
صحت کی سہولیات کے فقدان کا نوٹس نہ لیا گیا تو بڑی قیمتی جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کیصوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے پشاور کے ہسپتالوں کو انسولین کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی جانوں سے کھیلنے کا نیا حربہ قرار دیا ہے ، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پشاور کے بڑے تدریسی ہسپتالوں سمیت مختلف اضلاع میں بھی انسولین کی فراہمی روک دی گئی ہے جس کی وجہ سے شوگر کے موذی مرض میں مبتلا غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے مریض مشکلات میں گِھر چکے ہیں اور وہ اب مہنگے داموں انسولین بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہسپتالوں کی مفت ادویات کی فراہمی کے جو دعوے کئے تھے اب اُن کی حقیقت کھل کر عوام کے سامنے آ گئی ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ غلط پالیسیاں اور ٹھوس اقدامات نہ ہونا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور غیر ذمہ دارانہ رویئے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سے صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے خیبر پختونخوا بحرانوں کا شکار ہے صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو تکالیف کا سامنا ہے اور ہلا کتوں کی شرح میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت سمیت دیگر حکومتی اداروں میں اقربا پروری کے نتیجے میں بھرتی ہونے والے اہلکار صرف حاضریوں تک محدود ہیں اور ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ، ایمل خان نے کہا کہ حکومت کی غیر سنجیدگی کے باعث صوبے میں موذی امراض پھیل رہے ہیں ،اور اگر ان کی روک تھام اور صحت کی سہولیات کے فقدان کا نوٹس نہ لیا گیا تو بڑی قیمتی جانی نقصان کا اندیشہ ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان امراض کی روک تھا م اور ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹھوس اور مناسب اقدامات کئے جائیں۔