مورخہ : 7.5.2016 بروز ہفتہ
کپتان کے 350 ڈیموں کی تعمیر کے وعدے کہاں گئے۔ امیر حیدر خان ہوتی
حکومت تین سال میں ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہ کر سکی۔
صوبے کو ابھی سے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سنہ 2018 کو صوبے کے عوام تبدیلی والوں کا بستر گول کردیں گے۔ مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور( پریس ریلیز ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ گرمی میں اضافہ ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیاہے کپتان کے 350ڈیموں کی تعمیر کے وعدے کہاں گئے، پنجاب میں میٹرو اوراورنج ٹرین منصوبے بن رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے تین سال میں اب تک ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا۔ اقتدار ہمارا نصب العین نہیں بلکہ زندگی کا مشن چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرناہے۔ وہ ہفتہ کی شام پی کے 24کے علاقہ خنجر کلے میں جنرل کونسلر محمد سعید کے حجرے میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں اسرار خان ،ظہور احمد اورمحمدالیاس اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی کے ضلعی صدر اورضلع ناظم حمایت اللہ مایار ، ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اوردیگر نے بھی خطاب کیا ۔امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیا رکرنے والوں کو مبارک باددیتے ہوئے ان کے فیصلے کو تاریخی قراردیا اورکہاکہ پی ٹی آئی کے غلط پالیسوں کی وجہ سے لوگ ان سے نالاں ہیں اور آج اپوزیشن میں ہونے کے باوجود پختون قوم سرخ جھنڈے تلے اکٹھے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ توانائی بحران کے حل کے لئے صوبے کے عوام سے جھوٹے وعدے کئے گئے آج حالت یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں روز بروز اضافہ ہورہاہے 350ڈیموں کی تعمیر کے حوالے ہوا میں اڑ گئے ہیں سرکاری تعلیمی اداروں کو ایچی سن کے معیار پرلانے کے دعوے کئے جارہے تھے لیکن آج سرکاری سکول کے طلباء اور طالبات زمین پر بیٹھنے پر مجبورہیں مفت کتابوں کے لئے بچے ترس رہے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں پنجاب میں میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبے مکمل ہورہے ہیں لیکن یہاں تین سال گزرنے کے باوجود ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا ۔ان کاکہناتھاکہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی دونوں پختون دھرتی کے مالک نہیں بلکہ کرایہ دار ہیں اورکرایہ داروں کو پرائے گھر کی فکر نہیں ہوتی یہ ہماری دھرتی ہے اور اس کی خدمت ہم کریں گے تبدیلی کے دعویداروں نے پختون قوم کے مینڈیٹ کا ذرہ بھر خیال نہیں رکھا 2018ء وعدوں کو ایفا نہ کرنے والوں کا خیبرپختون خوا سے بوریابستر گول کردیں گے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا بلکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب کی سیاست کررہے ہیں جبکہ میاں نوازشریف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے لے کر 2008 تک صوبے میں صر ف 9یونیورسٹیاں تھیں جبکہ ہم نے اپنے دورحکومت میں دس یونیورسٹیاں قائم کرکے صوبے بھر میں علم کی روشنیاں بکھیر دیں1122سروس شروع کرکے انقلابی قدم اٹھایا جدیدہسپتالوں کی تعمیرشروع کی لیکن تبدیلی والوں نے ان منصوبوں کے فنڈز بروقت ریلز نہیں کئے اور آج حالت یہ ہے کہ جن منصوبوں کو 2015 میں مکمل ہونا تھا وہ آج بھی ادھورے پڑے ہیں۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں کوہدایت کی کہ وہ پختون قوم کی یکجہتی اور اتحاد واتفاق کے لئے گھر گھر جاکر جرگے کریں انہوں نے کہاکہ پختون قوم کے مسائل کاحل صرف سرخ جھنڈے کے پاس ہے ۔