مورخہ : 15.4.2016 بروز جمعہ
کپتان الزامات اور دھرنے سے قبل اپنے ہسپتال کے 30 کروڑ روپے کا حساب دیں۔ حیدر خان ہوتی
اے این پی الزام ثابت ہونے سے پہلے وزیر اعظم کے استعفے کے حق میں نہیں ہے۔
صوبائی حکومت کی مثال مالک کی بجائے کرایہ دار کی ہے جس کو صوبے کے مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
حکومت عوام کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حلقہ پی کے 26 میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز ) اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ پاناما لیکس میں عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی رہنما شامل نہیں ، کپتان رائے ونڈ دھرنے سے قبل اپنے ہسپتال کے 30کروڑ روپے کا حساب دیں ،الزام ثابت ہونے سے قبل وزیراعظم سے استعفیٰ کے حق میں نہیں ،تحقیقات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں کرائی جائیں وہ جمعہ کی شام حلقہ پی 26کے علاقہ فضل آباد نرے میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں ممتاز علماء کرام مفتی عبدالنصر نصیرالدین ثانوی،مولانا شاہجہان ،مفتی محمد جاوید ،مولانا محمد یونس ،مولانا مقبول احمد مولانا اورفضل مولانا جنیدی نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت جے یو آئی سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا اے این پی کے ضلعی صدراور ضلع ناظم حمایت اللہ مایار ، صوبائی نائب صدر جاوید یوسفزئی ، جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ، ملک اعجاز ،ملک امان،مفتی عبدالصبور اور دیگر نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیا رکرنے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باد دی ان کاکہناتھاکہ ہم پر بیرونی ممالک میں جائیدادیں بنانے کے الزاما ت لگانے والے آج ایک دوسرے کے خلاف گواہ بن چکے ہیں انہوں نے پاناما لیکس کے معاملے کا چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر نوازشریف پر الزامات ثابت ہوئے تو سب سے پہلے اے این پی ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرے گی عمران خان بھی ہسپتال کے چندوں کی رقم کا حساب دیں اور رائے ونڈ دھرنے سے پہلے اپنے خلاف الزامات کا جواب دیں انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی مثال کرایہ دار کی ہے اوران کی پختونوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں انہوں نے علمائے کرام کی شمولیت کو اے این پی کے لئے بڑا اعزاز قراردیتے ہوئے کہاکہ آج باچاخان اورخان عبدالولی خان کے خواب پورے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں عوام منصوبوں کے ساتھ ساتھ مساجد اور مدارس کی خدمت کابھی کی ہے اور اس مقصد کے لئے ان کی حکومت نے ضروری قانون سازی کی تھی جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجودہ وزیراعلیٰ ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ وہ مساجد اورمدارس بنانے والے وزیراعلیٰ نہیں انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کے پاس ترقی کا کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں نوجوانوں کو سنہرے خواب دکھانے والوں نے انہیں چوہوں کے شکار پر لگادیاہے انہوں نے ایک بارپھر واضح کیا کہ پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے کارکنوں کی مشاورت کئے جائیں گے اور اب تک کسی بھی حلقے کے ٹکٹ کا فیصلہ نہیں کیاگیا ہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ عمران خان اور میاں نوازشریف پنجاب کی سیاست کررہے ہیں ایک وزیراعظم کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ وزیراعظم اپنی کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کے جان ومال کے تحفط میں ناکام ہے انہوں نے مزید کہاکہ آنے والا وقت اے این پی کا ہے کپتان دیکھ لیں کہ جنون اورجذبہ ہمارے ساتھ ہے چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھاکرکے دم لیں گے۔