مورخہ 7اپریل2016ء بروز جمعرات

کسٹم ایکٹ کے فیصلے کی واپسی تک احتجاج جاری رہیگا، سردار حسین بابک
اے این پی نے10اپریل کو اے پی سی طلب کی ہے،جس کے بعد احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا
ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کی قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔
مرکزی و صوبائی حکومتیں اب ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتیں
ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں کسٹم ایکٹ کے فیصلے کی واپسی تک اے این پی احتجاج جاری رکھے گی ، اور مرکزی و صوبائی حکومتوں میں شامل ملاکنڈ ڈویژن کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ارکان اپنے علاقے کے عوام کو مزید بے وقوف بنانے کی بجائے ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں ، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ10اپریل کو کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی نے اے پی سی طلب کی ہے جس میں ضلع ناظمین ، تحصیل ناظمین ،تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ضلعی صدور و جنرل سیکرتریز ، تاجر برادری ، کنٹریکٹرز ، سول سوسائٹی صحافتی تنظیموں ، وکلاء اور ڈاکٹر برادری کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام سراپا احتجاج ہیں جبکہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو مورو الزام ٹہرا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں اور اس مسئلے کے حل کی یقین دہانی نہ مرکزی اور نہ ہی صوبائی حکومت کرا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی سمجھتی ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کی قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے شکار ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام مرکزی و صوبائی حکومتوں کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف مکمل متفق اور متحد ہیں ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کی پارٹی تنظیموں کو ہدایت کی 10اپریل کی اے پی سی کے بعد اضلاع کی سطح پر ہونے والے احتجاج کا دائرہ علاقائی سطح تک بڑھا دیا جائے اور کسٹم ایکٹ کے خلاف ہر علاقے میں اپنا احتجاج جاری رکھیں ،انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اب ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتیں اور اے این پی کا احتجاج کسٹم ایکٹ کے فیصلے کی واپسی تک جاری رہیگا ،انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے پہلے ہی سے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کے ساتھ اے این پی رابطے میں ہے، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی اخباری بیانات کے ذریعے عوام سے جان چھڑانے کی بجائے ان کے جائز حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں۔