MalakandConvention

کسٹم ایکٹ کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو ملاکنڈ ڈویژن کے عوام بنی گالہ کے گھیراؤ سمیت کھلی مزاحمت پر اُتر آئیں گے۔حیدر خان ہوتی

مرکزی اور صوبائی حکومتیں پشتونوں ، چھوٹے صوبوں اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے ساتھ مسلسل زیادتی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔

 شورش زدہ اور آفت زدہ ملاکنڈ ڈویژن کو مراعات دینے کی بجائے کسٹم ایکٹ کے ظالمانہ فیصلے کا نشانہ بنانا زیادتی ہے۔

 سن 2018 حقیقی عوامی تبدیلی کا سال ثابت ہوگا۔ عوام اے این پی میں شمولیت کے علاوہ اس سے موثر کردار کا تقاضا کر رہے ہیں۔

پی کے 99 ملاکنڈ میں ورکرز کنونشن سے خطاب

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے خبر دار کیا ہے کہ اگر شورش زدہ اور مصیبت زدہ ملاکنڈ ڈویژن پر مسلط کسٹم ایکٹ کے فیصلے کو واپس نہیں لیا گیا اور دونوں حکومتیں بلیم گیم کی پالیسی سے باز نہیں آئیں تو ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور اے این پی کے کارکن بنی گالہ کے گھیراؤ سمیت بعض دیگر سخت اقدامات پر مجبور ہوں گے اور نتائج کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پی کے 99 ملاکنڈ کے ورکرکز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس سے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، ضلعی صدر شفیع اللہ خان اور سابق ایم پی اے شعیب خان نے بھی خطاب کیا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں پشتونوں ، چھوٹوں صوبوں اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کیساتھ مسلسل زیادتی پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جس کے باعث صوبے اور ایسے علاقوں کے عوام احساس محرومی کے باعث احتجاج اور مزاحمت پر اُتر آئے ہیں۔ اُنہوں نے ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ڈویژن کے لاکھوں عوام نے امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بے مثال قربانیاں دیں۔ معاشی بدحالی برداشت کی اور نقل مکانی کے دُکھ برداشت کیے۔ اس کے علاوہ سیلابوں اور زلزلوں نے بھی لاکھوں افراد کو بے حال کر کے رکھ دیا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کی قربانیوں اور نقصانات کا ازالہ کیا جاتا اور ان کی مراعات اور بحالی کے پیکجز میں اضافہ کیا جاتا تاہم نااہل حکمرانوں نے اُلٹا ان پر کسٹم ایکٹ کی تلوار چلائی جس کا کوئی سیاسی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی حکومت کو گھیراؤ ، جلاؤ کی سیاست سے فرصت نہیں ہے اور اُنہوں نے صوبے کے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر عمران خان رائیونڈ کا گھیراؤ کر سکتے ہیں تو کسٹم ایکٹ کے معاملے پر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور اے این پی کے کارکنوں کو بنی گالہ کا پتہ اور راستہ بھی معلوم ہے۔ اگر حکومت نے کسٹم ایکٹ کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو عوام کھلی مزاحمت پر اُتر آئیں گے اور اس کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے اُس کی ذمہ داری دونوں حکومتوں پر عائد ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری ، سی پیک اور صوبائی مفادات ، حقوق جیسے بنیادی ایشوز پر صوبائی حکومت سودے بازی اور مصلحت پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبے کے عوام نہ صرف یہ کہ اے این پی سے اس کے رول کا تقاضا کر رہے ہیں بلکہ اس میں جوق در جوق شامل بھی ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور اقتدار میں صوبے میں امن کے قیام ، اقتصادی ترقی اور تعلیم کے فروغ کیلئے تاریخی اور مثالی خدمات سرانجام دیں جبکہ موجودہ حکومت نے حقوق پر سودے بازی کے علاوہ اساتذہ اور طلباء کو بندوقیں تھما رکھی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات صوبے میں حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھنے کا سبب بنیں گے اور اے این پی اس میں بھرپور کامیابی حاصل کر کے صوبے کی حقیقی نمائندگی کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی۔