2016 کاریڈور کے معاملے پر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو تمام جماعتیں راست اقدام پر مجبور ہوں گی ۔میاں افتخار حسین

کاریڈور کے معاملے پر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو تمام جماعتیں راست اقدام پر مجبور ہوں گی ۔میاں افتخار حسین

کاریڈور کے معاملے پر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو تمام جماعتیں راست اقدام پر مجبور ہوں گی ۔میاں افتخار حسین


Mian Iftikhar Speech in BNP APC on CPEC by mohsindawar

مورخہ : 11.1.2016 بروز پیر

کاریڈور کے معاملے پر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو تمام جماعتیں راست اقدام پر مجبور ہوں گی ۔میاں افتخار حسین
صوبوں کو مطمئن نہیں کیا گیا تو ملک کا استحکام یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ پختونخوا ، بلوچستان اور فاٹا پاکستان کا حصہ نہیں ہیں اگر ہیں تو زیادتی کا کیا جواز ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو ماضی کے تجربات اور ان کے نتائج سے سبق لینے اورغلطیاں دہرانے سے گریز کی ضرورت ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے اسلام آباد میں بی این پی کی اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائناکاریڈؤر کے حوالے سے اگرابتدا میں ہماری بات کو سیاسی جماتیں سنجیدہ لیتیں توآج نوبت یہاں تک نہ ٓتی،وزیراعظم میاں نواز شریف کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیئے،اور معاہدے کو عام کیاجائے تاکہ اس بارے کنفیوژن ختم ہوسکے۔ ملک کے استحکام کی خاطر ہم سے زیادہ قربانی کس نے دی ہے انہوں نے کہا کہ ہم راہداری کے خلاف نہیں مگر کیا خیبرپختون خوا،فاٹا اور بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں ہیں،ہم کسی کو بھی اپنے کے معاشی قتل کی اجازت نہیں دے سکتے،انہوں نے کہا،وفاقی وزیراحسن اقبال باربار بریفینگ دینے سے راہداری کو بنی اسرائیل کا بچھڑا نہ بنائے کیونکہ اس قومی نوعیت کے مسئلے کو سلجھانے کے بجائے الجھایا جارہاہے،انہوں نے کہ راہداری منصوبے کے نقشے میں ردو بدل کے انکشاف کی گناہ بھی ہماری پارٹی کے گلے پڑ گئی ہے ،ہماری باتوں کو غلط رنگ نہ دیاجائے،زخم پر نمک پاشی کے بجائے مرہم رکھا جائے تاکہ ہمارے زخموں اور دُکھوں کا ازالہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم جب بھی اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم پر طرح طرح کے لیبل چسپاں کردیے جاتے ہیں،اگر اپنی قوم کے حقوق مانگنا جرم ہے تو یہ جرم ہم کرتے رہیں گے،انہوں نے کہا اگر ہمارے تحفظات دور کیے جائیں اور ہمیں صرف نقشوں میں لائنیں دکھاکر لولی باپ نہ دیاجائے،انہوں نے کہا ہم چین کے اس منصوبے کو خوش آمدید کہتے ہیں،اور چینی سرمایہ کارؤں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں تاہم اس سے پہلے ملک کے عوام کی جذبات اور احساسات کو بھی مدنظر رکھے،انہوں نے کہا وزیراعظم اٹھائیس مئی کے وعدے پر من وعن عمل کریں،اور تمام نزاکتوں کو سمجھیں، اور جلد ازجلد مغربی روٹ پرکام شروع کرنے کے احکامات جاری کریں،انہوں نے کہا اگر ہمارے مطالبے پرعمل نہیں کیا گیا تو تمام سیاسی جماتیں راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گی، لہذا چارؤں صوبوں کو مطمئن کیے بغیرکوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیئے جس سے ملک کا استحکام اور یکجہتی متاثرہوجائے،انہوں نے کہادہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں ملک کی بقا کی جنگ ہم نے لڑی اور سب سے زیادہ ہمارا صوبہ اور قبائلی علاقے متاثر ہوئے،مگر پھر بھی ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیاجارہاہے جیسے ہم مذید برداشت نہیں کرسکتے،انہوں نے کہااحسن اقبال کہتے ہیں کہ اکنامک کاریڈؤر کے لیے موٹرؤے کی ضرورت نہیں تو پھر ہمارے ہاں کیوں نہیں بناتے،انہوں نے کہا صوبائی خودمحتاری کے بارے میں اگر ہمارے قائدین کے موقف کو تسلیم کیاجاتا تو یہ ملک کبھی نہیں ٹوٹتا،ہمیں ماضی کی غلطیوں کو دھرانا نہیں بلکہ ان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے،انہوں نے کہا نیشنل ایکشن پلان کی بیس نکات پر اب تک مکمل عمل درآمد میں سست روی ملک وقوم کے لیے نیک شگون نہیں ہے،انہوں نے کہا وزیرستان کے متاثرین آج بھی کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں یہاں تک ان کے گھریلو سامان بھی کھلے عام بازارؤں میں نیلام کیاجاتاہے لہذا نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیاجائے۔ اور کاریڈور کے مسئلے کو وزیر اعظم کے اعلان پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ایک پر امن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکی اور فیڈریشن کے تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔

شیئر کریں