2016 کاریڈور کے معاملے پر حکومت مسلسل غلط بیانی سے کام لیتی آئی ہے ۔ حاجی محمدعدیل

کاریڈور کے معاملے پر حکومت مسلسل غلط بیانی سے کام لیتی آئی ہے ۔ حاجی محمدعدیل

کاریڈور کے معاملے پر حکومت مسلسل غلط بیانی سے کام لیتی آئی ہے ۔ حاجی محمدعدیل

12469380_987768207951526_3157251477911297948_o

مورخہ : 13.1.2016 بروز بدھ

کاریڈور کے معاملے پر حکومت مسلسل غلط بیانی سے کام لیتی آئی ہے ۔ حاجی محمدعدیل
صوبہ خیبر پختونخوا کو اس کے حقوق اور وسائل کے معاملے پر وفاق کی مسلسل زیادتی کا سامنا ہے۔
لگ یہ رہا ہے کہ کاریڈور کے ذریعے پاکستان کی بجائے پنجاب کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی محمد عدیل نے کہا ہے کہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور میں صوبہ خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور فاٹا کو نظر انداز کرنے سے ان علاقوں کے عوام کے احساس محرومی میں خطر ناک اضافے کا راستہ ہموار ہو گا اور فیڈریشن کو لاحق خطرات میں بھی اضافہ ہو جائیگا۔
پشاور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے ابتداء ہی سے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مختلف مواقع پر پارٹی مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی کہ مغربی روٹ کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس منصوبے سے پسماندہ اور جنگ زدہ علاقوں کو مستفید ہونے دیا جائے اور پسماندہ علاقوں کو مین سٹریم میں لانے کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔
اُنہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے متعلقہ وزیر اور بعض دیگر حلقے مسلسل غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ حالانکہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں وقتاً فوقتاً اس منصوبے پر کھلے عام تحفظات کا اظہار کرتی آئی ہیں اور یہ تاثر بہت عام ہو چکا ہے کہ کاریڈور کے ذریعے پاکستان کی بجائے صرف پنجاب کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے جو کہ فیڈریشن کیلئے انتہائی خطرناک بات ہے۔
حاجی محمد عدیل نے کہا کہ کاریڈور کے منصوبے کو اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت خود متنازعہ بنارہی ہے اور تحفظات دور کرنے کی تمام حکومتی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں کیونکہ حکومت عملی اقدامات کی بجائے مسلسل غلط بیانی سے کام لیتی آئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو ویسے بھی وفاق کی مسلسل زیادتی کا سامنا ہے اور کاریڈور کے منصوبے میں بھی اس کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حالانکہ ہم کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں اور حق تلفی کی تاریخ بھی بہت لمبی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری اور وسائل کی تقسیم کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے حالانکہ گزشتہ حکومت نے ان مسائل کے حل کیلئے بہت سی ضروری آئینی ترامیم کی تھیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مستقبل کے چیلینجز سے نمٹنے کیلئے صوبوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور عملی اقدامات کے ذریعے ان خدشات کا ازالہ کیا جائے جن کا صوبوں اور قومیتوں کو سامنا ہے۔

شیئر کریں