2016 کاریڈور کو پنجاب کے مفادات کا تابع بنایا گیا تو یہ اپنی تکمیل سے قبل ہی ناکامی سے دوچار ہو جائیگا، میاں افتخار حسین

کاریڈور کو پنجاب کے مفادات کا تابع بنایا گیا تو یہ اپنی تکمیل سے قبل ہی ناکامی سے دوچار ہو جائیگا، میاں افتخار حسین

کاریڈور کو پنجاب کے مفادات کا تابع بنایا گیا تو یہ اپنی تکمیل سے قبل ہی ناکامی سے دوچار ہو جائیگا، میاں افتخار حسین

1918223_984460254948988_390185287770235026_n

مورخہ : 7.1.2016 بروز جمعرات

کاریڈور کو پنجاب کے مفادات کا تابع بنایا گیا تو یہ اپنی تکمیل سے قبل ہی ناکامی سے دوچار ہو جائیگا ‘ میاں افتخار حسین
منصوبے کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کا مستقبل وابستہ ہے۔موجودہ حکومتی رویہ اس منصوبے کے مسقبل پر سوالیہ نشان ہے۔
مغربی روٹ پر عملی کام کا آغاز ناگزیر ہے۔ اے این پی کا مؤقف بالکل واضح ہے ‘ اے پی سی سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اگر حکمرانوں نے چائنا پاک اکنامک کاریڈور کو پنجاب کے مفادات اور ترجیحات تک محدود رکھنے کی مبینہ روش جاری رکھی تو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا یہ منصوبہ اپنی تکمیل سے قبل ناکامی سے دوچار ہو جائیگا اور ایسا ہونے سے چھوٹے صوبوں کے خدشات میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہو جائیگا۔
پشاور میں جے یو آئی (ف) کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اسلام آباد اورکوئٹہ میں اس معاملے پر اس وقت آل پارٹیز کانفرنسز کرائی تھیں جب یہ مسئلہ متعدد دیگر کے علم میں بھی نہیں تھا۔ اگر سیاسی قوتوں نے اس وقت موجودہ اتفاق رائے اور یکجہتی کا اظہار کیا ہوتا اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کی گئی ہوتی تو صورتحال آج کافی مختلف ہوتی تاہم موجودہ صف بندی کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ گوادر بنیادی طور پر بلوچوں کی ملکیت ہے ان کو خدشہ ہے کہ ان کی شناخت کو خطرہ درپیش ہے اور وہ اقلیت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کا مؤقف ہے کہ کاریڈور کے فوائد سے اس کو محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ خدشات زمینی حقائق کے تناظر میں بالکل جائز ہیں۔ اس لیے ہم نے باربار مؤقف اپنایا کہ مغربی روٹ کے بغیر اس منصوبے کی کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی آل پارٹیز کانفرنسز کے دوران بھی اے این پی کا مؤقف بالکل واضح تھا اور حال ہی میں جب ژوب میں تقریب کا اہتمام ہو رہا تھا تو اُنہوں نے پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کا مغربی روٹ کے بارے میں صوبوں کو اعتماد میں لیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے احسن اقبال کی ابتدائی بریفنگ میں اس لیے شرکت سے انکار کیا تھا کہ وہ ایک بے اختیار اور متنازعہ شخص ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نے اسفندیار ولی خان سے ملاقات کی اور یقین دہانیاں کرائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستان بالخصوص صوبہ پختونخوا ، فاٹا اور بلوچستان کا مستقبل وابستہ ہے اس لیے اس کو محض پنجاب کے مفادات اور ترجیحات کا تابع بنانے سے گریز کیا جائے۔ اگر اس رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے مغربی روٹ پر عملی کام کا آغاز نہیں کیا گیا تو اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اس سے ملک کی مشکلات میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہو گا اور اس منصوبے کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ صوبے کی تمام نمائندہ قوتوں نے کاریڈور سمیت دیگر معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل اور مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔

شیئر کریں