2016 کاریڈور منصوبے کا مستقبل ابتدائی نقشہ جات پر عمل اور صوبوں کے اطمینان سے مشروط ہے

کاریڈور منصوبے کا مستقبل ابتدائی نقشہ جات پر عمل اور صوبوں کے اطمینان سے مشروط ہے

کاریڈور منصوبے کا مستقبل ابتدائی نقشہ جات پر عمل اور صوبوں کے اطمینان سے مشروط ہے

12511065_162896177409130_99665828_o

مورخہ 5 جنوری 2016ء بروز منگل
حکومتی طرز عمل کے باعث کاریڈور منصوبے نے چائنہ پنجاب پراجیکٹ کی شکل اختیار کر لی ہے ، حاجی محمد عدیل
منصوبے کا مستقبل ابتدائی نقشہ جات پر عمل اور صوبوں کے اطمینان سے مشروط ہے۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی محمد عدیل نے کہا ہے کہ کاریڈور کے بارے میں حکومتی طرز عمل سے ثابت یہ ہو رہا ہے کہ جیسے حکمرانوں کو ان لوازمات اور ضروریات کا سرے سے احساس ہی نہیں ہے جنہیں منصوبے کا حصہ بنانا چاہئے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا ایجنڈہ کچھ اور نظر آ رہا ہے اگر اس نے مغربی روٹ کو واقعتاً بنانا ہوتا تو منصوبے کے ابتدائی نقشوں میں شامل تمام لوازمات اس میں شامل کرائے جاتے جن میں ریلوے ٹریکس انڈسٹریل زونز اور متعدد دیگر سہویات شامل ہیں ،ریع
انہوں نے کہا کہ صوبے کے بعض وہ علاقے بھی نظر انداز کئے جا رہے ہیں جن کو شامل کرنا حکومت کی مجبوری ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ بعض مجبوریاں ختم ہونے کے بعد ان علاقوں کو بھی پراجیکٹ میں سے باہر نکال دیا جائے گا جنہیں بوجوہ شامل کیا گیا ہے ،
انہوں نے مزید کہا کہ محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے کاریڈور نے عملاً چائنہ پنجاب کاریڈور کی شکل اختیار کی ہوئی ہے اور اسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ مختلف سیاسی قوتوں کے علاوہ عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس منصوبے پرشدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس پراجیکٹ کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ احسن اقبال اس منصوبے کی ڈیلنگ کی صلاحیت سے محروم ہیں اور ان کے مبہم بیانات اور طرز عمل ہی کا نتیجہ ہے کہ خدشات اور اعتراضات وزیر اعظم، بعض دیگر کی وضاحتوں اور یقین دہانیوں کے باوجود ختم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مستقبل صوبوں کے مکمل اطمینان اور مغربی روٹ پر ابتدائی پلاننگ اور نقشہ جات پر عمل درآمد ہی سے مشروط ہے اور اگر حکومت نے اپنا رویہ تبدیل کر کے شکوک و شبہات ختم نہیں کئے تو حالات مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جائیں گے۔

شیئر کریں