مورخہ 3 جنوری 2016ء بروز اتوار
کاریڈور، نیشنل ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی پر اے این پی کا مؤقف جرأت مندانہ اور زمینی حقائق پر مبنی رہا ، زاہد خان
ہم نے پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر مؤثر آواز اٹھائی تو ہمیں غدار کہا گیا اور ہمارے خلاف منفی پراپیگنڈا مہم چلائی گئی
*اہم ایشو پر پی ٹی آئی سمیت بہت سی قوتیں صوبے کے مفادات سے متصادم پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور پارٹی نے پہلے ہی دن سے واضح کر دیا تھا کہ اس منصوبے کے دوران فاٹا اور صوبے کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز برداشت نہیں کیا جائے گا ،اور اسے اے پی سی کے وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان ہی وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے پہلی اے پی سی کے دوران مغربی روٹ پر واضح مؤقف لے کر اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کیا اور اسی کے نتیجے میں وزیر اعظم کو دوسرا اجلاس بلانا پڑا ، جس کے بعد انہوں نے مغربی روٹ پر تمام درکار ضروریات اور سہولیات کے ساتھ کام کرانے کا اعلان کیا اور بعد ازاں ایک ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے اعلان کو عملی جامہ پہنائیں گے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے دو آل پارٹیز کانفرنسز کا انعقاد کیا اور ہر فورم پر اپنے مؤقف کا جرأتمندانہ اظہار کرتے ہوئے کسی مصلحت سے کام نہیں لیا ،زاہد خان نے کہا کہ اسی مؤقف کا نتیجہ تھا کہ بعض حلقوں نے اے این پی پر غداری کے الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کیا اور اے این پی کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا بھی کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ اس مہم میں صوبے کی حکمران جماعت کے لیڈروں اور وزیر اعلیٰ نے بھی حصہ لیا اور ان کے یہ بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں تاہم اے این پی اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹی رہی اور پارٹی کسی پروپیگنڈے اور مہم جوئی کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مؤقف پر قائم رہی ، انہوں نے مزید کہا کہرائے عامہ ہموار کرنے میں اے این پی سب سے آگے رہی حالانکہ پی ٹی آئی سمیت بہت سی قوتیں نہ صرف ابہام اور مصلحت کا شکار رہیں بلکہ لمبے عرصے تکیہ صوبے کے مفادات سے متصادم پالیسی یا لاتعلقی پر عمل پیرا رہیں ، انہوں نے کہا کہ کاریڈور سمیت تمام اہم ایشوز پر پارٹی نے صوبے اور فاٹا کے حقوق اور اختیارات کی جدوجہد میں بنیادی کردار ادا کر کے ثابت کیا کہ خطے کی سیاسی نمائندگیپر کسی کو بھی سودے بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی ،اور پارٹی اس رول کے نتائج اور اثرات کا عوام کے علاوہ بعض سیاسی مخالفین بھی وقتاً فوقتاً اعتراف کرتے آئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ آج جو حقوق صوبے کو حاصل ہیں اس کا کریڈٹ بھی اے این پی کو جاتا ہے اور ہماری قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ بعض وہ قوتیں بھی وفاق کو آنکھیں دکھانے کے قابل ہو گئی ہیں جن کا ماضی ہمیشہ مشکوک رہا ہے اور وہ حکومت میں رہنے کے باوجود صوبے کے حقوق کے حصول یا وسائل کے استعمال میں ناکام رہی ہیں ،انہوں نے کہا کہ کوریڈور ، نیشنل ایکشن پلان ،پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اور دہشت گردی جیسے ایشو پر اے این پی کا مؤقف زمینی حقائق کے تناظر میں قطعاً واضح اور جرأتمندانہ ہے اور ہم اپنے عوام کے حقوق کیلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی کسی قسم کی جدوجہد یا قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معاملات پر موجود ابہام کو دور کیا جائے اور عملی اقدامات کے ذریعے چھوٹے صوبوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے تا کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔