مورخہ 11اپریل2016ء بروز پیر

کارکنوں کی شہادتوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ کارکنوں کی شہادت کے خلاف 13 اپریل کو احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ حیدر خان ہوتی
حکومت صوبے کے مفادات کے تحفظ سمیت سیاسی کارکنوں ، دیگر طبقوں اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
دہشتگردی ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر ایشوز پر عمران خان اور ان کی حکومت مجرمانہ خاموشی اور مصلحت کا شکار ہیں۔
سن 2013 کے الیکشن میں اے این پی کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا۔
عوام اے این پی میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں، مستقبل ہمارا ہے ۔ صوابی میں ورکرز کنونشن سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے مفادات اور حقوق پر مصلحت سے کام لیتے ہوئے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ صوبے میں دوسروں کے علاوہ اے این پی کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ میں خطر ناک اضافہ نہ صرف یہ کہ تشویشناک ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت سیاسی کارکنوں اور عوام کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق پی کے 34 صوابی میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں اُنہوں نے اعلان کیا کہ اے این پی سوات کے پارٹی کارکن جمشید خان کی شہادت اور ایسے دیگر واقعات کے خلاف پورے صوبے اور فاٹا میں 13 اپریل کو احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور تمام اضلاع اور ایجنسیوں کی سطح پر ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائیگا۔
امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ حکومت سیاسی کارکنوں ، تاجروں ، عوام اور دیگر طبقوں کو تحفظ دینے میں شرمناک حد تک ناکام ہو چکی ہے اور حکمران مصلحت ، خوف اور خاموشی پر مبنی رویوں پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی حکومت صوبے کے مفادات اور حقوق پر سودے بازی کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ مردم شماری ، سی پیک ، فنڈز کے عدم استعمال ، منصوبوں میں تعطل اور صوبے میں امن کے قیام جیسے ایشوز پر حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ عمران خان کی تمام تر توجہ اس بات پر ہے کہ کوئی بھی راستہ اپنا کر وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں ایک منظم منصوبہ بندی اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اے این پی کا گھیراؤکرتے ہوئے ہمیں عوام کی پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا حالانکہ اے این پی نے نہ صرف یہ کہ امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بے مثال قربانیاں دیں بلکہ صوبے کی ترقی اور استحکام کیلئے ہماری حکومت نے بے مثال اور غیر معمولی اقدامات بھی کیے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام جان چکے ہیں کہ وہ تبدیلی والی سرکار کی حمایت کے منفی اثرات اور نتائج بھگت رہے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ پھر سے اے این پی کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور جوق در جوق اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے سوات میں اے این پی کے رہنما کی شہادت سمیت بعض دیگر واقعات پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات ناقابل برداشت ہو گئے ہیں اور پارٹی اس سلسلے میں مزید خاموش نہیں رہے گی۔
اُنہوں نے اعلان کیا کہ جمشید خان کی شہادت اور ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ سلسلے کے خلاف 13 اپریل کو دوپہر دو بجے صوبے کے تمام اضلاع اور قبائلی ایجنسیوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور بھر پور احتجاج کیا جائیگا۔ قبل ازیں ورکرز کنونشن سے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، سینیٹر ستارہ ایاز اور ضلعی صدر و ناظم صوابی امیر رحمان خان نے بھی خطاب کیا۔