مورخہ :22.2.2016 بروز پیر

چھوٹے صوبو ں میں پائی جانے والی محرومی کے لیے مردم شماری لازمی ہے ۔
بار بارمردم شماری ملتوی کرنا مسئلے کا حل نہیں،امن کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے۔
بدامنی کا بہانہ بناکر صوبوں کی اصل آبادی چھپائی جائے۔

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مدتوں سے صوبوں میں پائی جانے والی احساس محروی کے خاتمے اورقومی یکجہتی کے لیے ملک میں نئی مردم شماری ضروری ہے،تاکہ صوبوں کے تحفظات اور خدشات دور ہوسکے،انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص لابی ملک میں مردم شماری کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں جاری بیان میں میاں افتخارحسین نے کہا کہ ملک میں جاری بدامنی کو جواز بناکر مردم شماری سے پہلو تہی کسی بھی صورت ملکی استحکام کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوسکتی، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی،انتہاپسندی اور شدت پسندی ہے،جس کا راستہ روکنے کے لیے تمام مکاتب فکر بالخصوص ترقی پسند اور قوم پرست قوتوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکش پلان پر مکمل عمل درآمد سے مردم شماری کے لیے بھی ایک سازگار اور پرامن ماحول بن سکتا ہے اور یہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ و ہ اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور نئی مردم شماری کے لیے ماحول سازگار بنائیں انہوں نے کہا کہ بار بارمردم شماری ملتوی کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے چھوٹے صوبوں میں طرح طرح کے خدشات اور تحفظات پیدا ہورہے ہیں،کیوں کہ ملک میں تمام فیصلے آبادی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں،مگر نئی مردم شماری نہ کیے جانے کے باعث چھوٹے صوبے اب بھی احساس محروی کا شکار ہیں، اگرچہ صوبوں کی آبادی میں ہرسال بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی مردم شماری کی جائے تاکہ صوبوں میں پائے جانے والے خدشات دور ہوسکے،انہوں نے کہا کہ وزیرستان سے نقل مقانی کرنے والوں کی اصل تعداد بیس لاکھ ہے مگر پرانی مردم شماری میں اسے اب بھی دس لاکھ بتائی جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس وقت امن و امان کا زیادہ تر مسئلہ قبائلی علاقوں،خیبر پختون خوا،کراچی اور بلوچستان میں ہے تاہم اسے مردم شماری کی راہ میں حائل ہونے یا جواز نہیں بنانا چاہئے،اور نہ ہی بدامنی کا بہانہ بناکر صوبوں کی اصل آبادی چھپائی جائے،انہوں نے کہا افسوس کی بات ہے کہ اتنا طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی ہمارا ملک اس بات کا متحمل نہ ہوسکا کہ ملک کی اصل آبادی معلوم کی جائے ، جو قابل افسوس امر اور ہمارے حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، جس سے عالمی سطح پر بھی ملک کا امیج خراب ہوگیا ہے، انہوں نے کہا مردم شماری کو ملتوی کرنا اس بات کا ثبوت ہوگا کہ امن دشمن قوتیں اور دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے،انہوں نے کہا کہ پنجاب کو مردم شماری کے سلسلے میں اپنے چھوٹے بھائیوں کی خاطر بڑے پن کا مظاہرہ اور بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال بعد بھی اگر مردم شماری کے لیے ناسازگار حالات کا جواز پیش کیاجارہا ہے تو اس سے لگتا ہے کہ مردم شماری کے حوالے سے ہمارے حکمرانوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے ۔