مورخہ 30مارچ 2016ء بروز بدھ

پنجا ب میں کارروائیاں کیے بغیر پاکستان اور خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ میاں افتخار حسین
حکومت اور بعض قوتوں نے وقتی بچاؤ کیلئے پنجاب میں کارروائیوں کی بجائے مصلحت سے کام لیا۔
نیشنل ایکشن پلان کو ری وزٹ کرنے کیلئے اے پی سی بلائی جائے۔ بلاامتیاز کاروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔
ہم پنجاب کے دُکھ اور تکلیف میں برابر کے شریک ہیں۔ لاہور میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کیلئے تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیوں کی اشد ضرورت ہے اور کوئی بھی مفاہمت یا تعطل دہشتگردوں کی قوت اور صلاحیت میں اضافے کی وجہ بن سکتی ہے۔ اگر پنجاب میں مفاہمت کی بجائے آپریشن کرائے گئے ہوتے تو نہ صرف یہ کہ لاہور حملوں سے بچ جاتا بلکہ ملک سے دہشتگردوں کا خاتمہ بھی یقینی ہو جاتا کیونکہ پنجاب کی 70 کالعدم تنظیمیں نہ صرف یہ کہ بہت منظم ، تربیت یافتہ اور خطر ناک ہیں بلکہ یہ ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی کارروائیاں کرتی آئی ہیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق میاں افتخار حسین نے لاہور کے شیخ زید اور جناح ہسپتالوں میں سانحہ لاہور کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ رہا ہے اور ان کا خاتمہ کیے بغیر امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم بیس پچیس برسوں سے دہشتگردی کے نتائج اور اثرات بھگتتے آرہے ہیں اس لیے ہم لاہور اور پنجاب کے دُکھ اور صدمے کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہم پنجاب سے اظہار ہمدردی کرنے لاہور آئے ہیں تاکہ ان کو پیغام دیا جا سکے کہ ہم ان کے درد میں برابر کے شریک ہیں۔
اُنہوں نے کہا یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکومت اور بعض قوتوں نے وقتی فائدے اور خطرہ ٹالنے کیلئے پنجاب میں مصلحت سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب میں دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا گیا اور وہ ریاستی کارروائیوں سے محفوظ رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر بلاامتیاز عمل کیا جاتا اور مصلحت سے کام نہیں لیا جاتا تو صورتحال کافی بہتر ہوتی۔ اُنہوں نے کہا کہ کرسی بچانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کی فکر کی جائے اور اے پی سی بلا کر نیشنل ایکشن پلان کو ری وزٹ کیا جائے تاکہ ہر قیمت پر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ منظم طریقے سے گڈ اور بیڈ کا امتیاز کیے بغیر کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں اور مزید تاخیر یا مصلحت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد کے علمبردار ہیں اور ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ پاکستان سمیت دُنیا بھر سے دہشتگردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہو۔