مورخہ یکم اپریل 2016ء بروز جمعہ
پنجاب دہشتگرد وں کا گڑھ ہے، خاتمہ کیے بغیر امن و امان کا قیام ممکن نہیں، میاں افتخار حسین
مفاہمت کی بجائے پنجاب میں آپریشن کرائے جاتے تو لاہور حملوں سے بچ سکتا تھا
آپریشن کے نام پر پنجاب میں مقیم پختونوں کو بے جا تنگ کیا جارہا ہے،احساس محرومی سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا
پنجاب کی 70 کالعدم تنظیمیں زیادہ خطرناک منظم اور تربیت یافتہ ہے۔ لاہور سے واپسی پر بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہاہے کہ عوامی نیشنل پارٹی بار بار ایک مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے کہ پنجاب میں دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز اور منظم کاروائی کی جائے تاکہ پورے ملک سمیت پنجاب کے عوام کو دہشت گردی کے ناسور سے بچایاجائے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کیلئے تمام دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹنا ہوگا،مزیدتاخیر اور اور مصلحت سے دہشتگردوں کو تقویت ملے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ لاہور سے واپسی کے بعد باچاخان مرکزمیں میڈیا سے بات چیت کے دوران کیاانہوں نے لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں گلشن اقبال پاک دھماکے فرداً فرداً تقریباً 70زخمیوں سے ملے اور اُن کی خیریت دریافت کی جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی انہوں نے بتایا کہ سانحہ لاہور انتہائی دردناک سانحہ ہے اور عوام اب بھی ایک کرب سے گزر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ بیس پچیس برسوں سے دہشتگردی کے نتائج اور اثرات بھگتتے آرہے ہیں تاہم لاہور کا دورہ پنجاب کے عوام کو یہ پیغام دینا تھا ک ان کے اس درد اور تکلیف میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں مفاہمت اور مصلحت کی بجائے آپریشن کرائے گئے ہوتے تو نہ صرف یہ کہ لاہور حملوں سے بچ جاتا بلکہ ملک سے دہشتگردوں کا خاتمہ بھی یقینی ہو جاتا کیونکہ اب بھی پنجاب کی 70 کالعدم تنظیمیں نہ صرف یہ کہ بہت منظم ، تربیت یافتہ اور خطر ناک ہیں بلکہ یہ ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی کارروائیاں کرتی آئی ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ پنجاب دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ رہا ہے اور ان کا مکمل خاتمہ کیے بغیر امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کا خاتمہ دیوانے کا خواب ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکومت اور بعض قوتوں نے وقتی فائدے اور خطرہ ٹالنے کیلئے پنجاب میں مصلحت سے کام لیا اور دہشتگردوں پر مضبوط ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا گیا جس کی وجہ سے وہ ریاستی کارروائیوں سے محفوظ رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر بلاامتیاز عمل کیا جاتا اور مصلحت سے کام نہ لیا جاتا تو آج ہمیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کرسی بچانے سے زیادہ ہمیں پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے ایکبار پھر مطالبہ کیا کہ جلد ازجلد اے پی سی بلا کر نیشنل ایکشن پلان کو ری وزٹ کیا جائے تاکہ ہر قیمت پر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ دورہ لاہور کے دوران یہ بات انتہائی شدت سے محسوس کی گئی کہ آپریشن کے نام پر پنجاب میں مقیم پختونوں کو بے جا تنگ کیا جارہا ہے اور عرصہ 40سال یا پاکستان بننے کے بعد سے وہاں پر مقیم پختونوں پر اب عرصہ حیات تنگ کیا جانے لگا ہے جو کہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کی بے دخلی پر توجہ دینے کی وجہ سے دہشت گرد محفوظ ہو جا تا ہے جبکہ احساس محرومی کے باعث دہشت گردی میں اضافہ ہوتاجارہا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نہ سندھی ہے نہ بلوچی ،نہ پنجابی اور نہ ہی پختون، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہے اور ان کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی شناختی کارڈ رکھنے والا کوئی بھی شہری ملک کے کسی بھی حصے میں رہ سکتا ہے اور کوئی قانون انہیں وہاں سے بے دخل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ، انہوں نے پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور نجی یونیورسٹی کے پرنسپل کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بالخصوص پشاور میں بھتہ خوروں کا راج ہے اورحکومت نام کی کوئی چیز نہیں، شہریوں کو ٹارگٹ کلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے عوام کو تحفظ فراہم کرے۔