مورخہ یکم اپریل 2016ء بروز جمعہ
پلڈاٹ‘‘ کی رپورٹ پر صوبے کے عوام انگشت بدنداں ہیں، ہارون بشیر بلور
صوبے میں بدامنی عروج پر ہے ، سرکاری ملازمین آئے روز ہڑتال اور احتجاج پر مجبور ہیں
ادارے کو حکمرانوں کی نجانے کون سی ادا پسند آ چکی ہے ، عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے
تعلیم اور صحت جیسے بنیادی محکمے حکومتی دعوؤں کے برعکس ایڈہاک اور تصوراتی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے ’’ پلڈاٹ ‘‘ ادارے کی جانب سے صوبائی حکومت کو سرٹیفیکیٹ دینے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت بیڈ گورننس میں نمبر ون ہے اور مسلسل غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی چلی آ رہی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں اغواء برائے تاوان ، بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے،ہارون بشیر بلور نے کہا کہ حکمرانوں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ترقیاتی فنڈز بروقت خرچ نہیں کئے جاسکے جس سے بجٹ ایک بار پھر لیپس ہونے کا خدشہ ہے ، محاصل کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی ،اسمبلی کاروائی میں عدم دلچسپی ،اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر اہم قوانین کو بلڈوز کرنا ، سرکاری ملازمین اور اپنے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا اور بجٹ جیسی دستاویزات میں غلط بیانی سے کام لینا ہی صوبائی حکومت کا وطیرہ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام اس تمام کارکردگی کے بعد ’’ پلڈاٹ‘‘ کی رپورٹ پر انگشت بدنداں ہیں اور یہ پوچھنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کو بہتری کا سرٹیفیکیٹ کس خوشی میں دیا گیا ہے اور ادارے کو حکومت کی کونسی ادا پسند آئی ہے جو وہ حکمرانوں کے قصیدے پڑھنے میں مصروف ہیں
بیان میں ایک مثال دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکومت نے تعلیم کے شہبہ میں صرف 30فیصد بجٹ استعمال کیا ،8ماہ کیلئے مختص کردہ 5ارب 98کروڑ روپے کی رقم کے کل 799 ترقیاتی منصوبوں میں سے 346منصوبوں پر ایک روپیہ تک خرچ نہیں کیا جا سکا اور صرف ساڑھے چار ارب روپے خرچ کئے جا سکے جبکہ محکمہ صحت جیسے اہم شعبے کو کسی آئینی یا قانونی طریقہ کار کے بغیر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے چلایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کو تصوراتی ایجنڈے کے ذریعے ایڈہاک بنیاد پر چلایا جا رہا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن کی حالت یہ ہے کہ اسے ایک آرڈیننس کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اور وہ آرڈیننس اتوار کے روز جاری کیا گیا حالانکہ اس کیلئے قانون سازی لازمی ہو تی ہے ، اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن میں مختلف طریقوں سے ٹیکسز لگانے کی پالیسی اپنائی گئی ہے جبکہ یہ علاقہ قانوناً فری ٹیکس زون ہے ، ان زمینی حقائق کی روشنی میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پلڈاٹ کی رپورٹ کتنی صداقت پر مبنی ہے اور اس میں کس قدر غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے ۔
صوبائی ترجمان نے کہا کہ سرکاری ملازمین کا آئے ر وز احتجاج اور فنڈز کی سیاسی و اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم بھی حکومت کا ایک کارنامہ ہے غریب عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ، صوبے کی ضروریات اور مشکلات کو نظر انداز کرنے پرحکومت کو ’’پلڈاٹ‘‘ کی جانب سے سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا ہے صوبے کے عوام کو ان حقائق سے آگا ہ کیا جائے۔