مورخہ 27مارچ 2016ء بروز اتوار
پشتو زبان کو نصاب سے نکالنے کی حکومتی کوششیں ناقابل برداشت ہیں۔ میاں افتخار حسین
سلیبس میں ضیاء الحق دور کی لائی گئی تبدیلیوں سے شدت پسند ذہنیت کو فروغ ملا۔مشترکہ مفادات کونسل کے دوسرے اجلاس میں سی پیک کو ایجنڈے میں شامل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ نوشہرہ میں تقریبات سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے مشترکہ مفاد ات کونسل کے دوسرے اجلاس میں بھی پاک چائنہ اقتصادی راہدری کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔نواز شریف وزیر اعظم کا کردار اداکریں کیونکہ وہ پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں اس لیے ان کوپورے ملک کے مفادات کاخیال رکھنا چاہے۔
وہ شیدومیں خوشحال ادبی جرگہ ک زیر اہتمام مشاعرے اور سباؤن سکول سسٹم کے افتتاح کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر اے ین پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان ضلعی جنرل سیکرٹری خوشحال خان، سابق ایم این اے مسعود عباس خٹک، پروفیسر اعجاز، ایمل خٹک ،اور عابد جانی بھی موجود تھے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک انتہائی نازک صور ت حال سے گزر رہا ہے۔ اور پوری دینا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ہم نے ہمیشہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ اور اس بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ انھوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر من وعن عمل ہونا چاہے۔ دہشت گردی کا جاری رہنا خود ایک سوالیہ نشان ہے حکومت کو چاہئے کہ اس پر نظر ثانی کرے اور جہاں جہاں کمزوریاں ہے اس کو ری وزٹ کیا جائے۔ انھوں نے پاک چائنا اقتصادی راہداری کے حوالے سے وفاقی حکومت عملی اقدمات کے فقدان پر حیرت کااظہار کیا۔ اورکہا کہ اتنے اہم معاملے کو امشترکہ مفاداد کونسل کے اجلاس میں شامل نہ کرنے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غیر سنجیدگی واضح ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خوشحال خان خٹک ادبی جرگہ نے ہمیشہ پشتو زبان کی بھر پور خدمت کی۔ موجودہ حکومت نے پشتو کو نصاب سے نکالنے کی جوکوشش شروع کی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ موجودہ حالت کے روشنی میں سلیبس میں نمایاں تبدیلیوں کی ضرور ت ہے۔ سلیبس پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اس میں ضیا الحق کے دور میں جو تبدیلی لائی گئی تھی اس سے شدت پسند زہنیت پیدا ہورہی ہے اور نئی نسل کو اس عذا ب سے نکالنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔میاں افتخار حسین نے نجی تعلیمی اداروں کے کردار کو سراہا۔ اور کہا کہ نجی تعلیمی ادارے تعلیم کو عام کرنے ،میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ باچاخان نے اسلامیہ سکول سسٹم کے نام سے صوبے میں سو سکول قائم کئے۔ انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں خیبرپختونخوا میں اٹھارہ یونیورسٹیاں قائم کی اور سینکڑوں کالجز اور سکول تعمیر کیے باچا خان ماڈل سکول نوشہرہ میں اس کی ایک بڑی مثال ہے اور اسی طرح باچا خان اور ولی خان یونیورسٹیاں صوے میں تعلیم کے شعبہ میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ اور پشتونوں کو دہلیز پر تعلیم فراہم کررہی ہیں ہمارا یہ مشن آئندہ بھی جاری رہے گا۔