مورخہ 28فروری 2016ء بروز اتوار
پختون آج تک انگریز دور کی کھینچی لکیر کے نتائج بھگت رہے ہیں، سردار حسین بابک
اے این پی فاٹا میں وسیع ترین سیاسی اور انتظامی اصلاحات کی حامی ہے، قبائلی علاقوں کو صوبے کا حصہ ہونا چاہئے
فاٹا کوپختونخوا میں ضم کرنے سے قبائلی عوام کے دیرینہ مسائل حل ہونگے اور انگریز کے کالے قانون سے بھی چھٹکارا مل سکے گا
قبائلی علاقہ جات کو صدیوں کے فرسودہ نظام کے ذریعے چلانا یہاں کے لاکھوں عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ہم فاٹا میں وسیع ترین سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے حامی ہیں اور ہمارا روز اول سے مؤقف رہا ہے کہ اس کو صوبے اور مین سٹریم پالیٹکس کا حصہ بنایا جائے۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ہم ابھی تک انگریز دور کی کھینچی گئی تقسیم در تقسیم کی لکیروں کے اثرات اور نتائج بھگت رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام پشتونوں کے وسیع تر مفادات کے تناظر میں ان کے اتحاد اور قربت کے امکانات کو عملی بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے اے این پی اس خطے کی نمائندہ پارٹی کے طور پر اپنا مؤثر اور واضح کردار ادا کرتی رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ پختونخوا میں ضم کرنے سے قبائلی عوام کے دیرینہ مسائل حل ہونے میں مدد ملے گی جبکہ انگریز کے کالے قانون سے بھی چھٹکارا مل سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام مسائل کی دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں اور ان کے مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ فاٹا کو صوبے کے بندوبستی علاقوں میں ضم کیا جائے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی اپنے قبائلی عوام کے معاملات ، مشکلات اور مستقبل سے لاتعلق نہیں رہ سکتی اور چاہتی ہے کہ قبائلی عوام کیلئے ایسا سیاسی اور انتظامی نظام لایا جائے جس کے ذریعے اس کے اجتماعی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں بے انتہا بے چینی پھیلی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثریت صوبے کے ساتھالحاق کی حامی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی کی پالیسی اس ضمن میں بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ قبائلی علاقہ جات کو صدیوں کے فرسودہ نظام کے ذریعے چلانا یہاں کے لاکھوں عوام کے ساتھ زیادتی ہے اس لئے عوام کی خواہشات اور تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے بعض بنیادی اصلاحات لائی جائیں اور اس میں مزید تاخیر نہ کی جائے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی انتہا پسندی خارجہ پالیسی اور جمہوریت سے متعلق اے این پی کی حقیقت پسندانہ پالیسیوں کو نہ صرف یہ کہ وقت نے درست ثابت کیا ہے بلکہ اب دوسری سیاسی قوتیں بھی ہمارے مؤقف کی تائید کر رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے تو اس کے فاٹا کے علاوہ پاکستان اور خطے کے مجموعی حالات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔