مورخہ : 15.4.2016 بروز جمعہ
پختونوں کے حقوق کی حق تلفی کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے ،سردار حسین بابک
دھرنوں اور ڈراموں سے عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے ،مرکزی و صوبائی حکومتوں نے صوبے کو فٹبال بنا رکھا ہے
الزامات لگانے والے قوم کو بتائیں کہ پانامہ لیکس میں ہماری پارٹی سے کتنے لوگوں کے نام شامل ہیں
صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور بدترین حکمرانی نے لوگوں کو ذہنی مریض بنادیا ہے، چنگلئی میں شمولیتی تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ دھرنوں اور ڈراموں سے عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے اور مرکزی و صوبائی حکومتوں نے صوبے کو فٹبال بنا رکھا ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے موضع چنگلئی پی کے 77 بونیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) چنگلئی ویلیج کونسل کے نائب ناظم محمد خان کی قیادت میں حاجی زرولی شاہ ، سید خاتم شاہ ، حضرت طیب کاکا ، مومین خان ، شیر اللہ کاکا ، حبیب اللہ بابا ، شیر افسر ، لیاقت امیر ، ممریز خان ، سید علی خان اور حاجی یعقوب شاہ نے دیگر سرکردہ رہنماؤں و عہدیداروں اور خاندانوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سردار حسین بابک نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور اُنہیں مبارکباد دی۔ اُنہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دونوں حکومتوں کو صوبے کے مسائل سے کوئی سروکارنہیں ہے لاہور اور تخت اسلام آباد کی جنگ نے صوبے کے عوام کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے۔ ہماری پارٹی پر کرپشن کے الزامات لگانے والے قوم کو بتائیں کہ پانامہ لیکس میں ہماری پارٹی سے کتنے لوگوں کے نام شامل ہیں۔سردار حسین بابک نے کہا کہ ملک کے احتسابی اداروں کو کھربوں روپے کے قرضے اور لاکھوں ایکڑ زمینیں اپنے نام کرنے والوں کا کڑا احتساب کر نا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملکی خزانے کولوٹنے والوں کا بے رحمانہ احتساب وقت کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملکی بینکوں سے کھربوں روپے کے قرضے لیکر مختلف اوقات میں حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے معاف کرانے والوں اور ملکی وسائل کو اونے پونے لوٹنے والوں اور سرکاری زمینوں کو اپنے اور رشتہ داروں کے نام کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا۔
صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ملاکنڈ میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ میں مرکزی اور صوبائی حکومت کا مک مکا شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت خاموش اور صوبائی حکومت مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے وقت میں ملاکنڈ ڈویژن کے 30 لاکھے عوام نے ملک و قوم کی کاطر گھر بار چھوڑا تھا اور ملکی بقاء کی جنگ لڑی ہے۔ لیکن مرکزی اور صوبائی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی قربانیوں کی پرواہ کئے بغیر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو تاریخی مراعات سے محروم کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی دورحکومت میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے تمام زرعی قرضے معاف کیے گئے تھے۔ ملاکنڈ ڈویژن کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا تھا۔ مردم شماری اور سی پیک جیسے اہم مسائل میں پختونوں کے حقوق کی حق تلفی کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور بدترین حکمرانی نے لوگوں کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ اس موقع پر اے این پی کے سابق ضلع ناظم حاجی رؤف خان ، ضلعی صدر محمد کریم بابک ، تحصیل خدوخیل کے ناظم گلزار حسین بابک اور نائب ناظم فضل الٰہی نے بھی خطاب کیا۔