مورخہ : 27.4.2016 بروز منگل
پانامہ لیکس کے شور میں دہشتگردی کا مسئلہ دبتا جا رہا ہے۔ میاں افتخار حسین
خطے کی صورتحال کے بارے میں ہمارے اکابرین کی پیشنگوئیاں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔
افغان انقلاب کی ناکامی میں خارجی اور داخلی قوتیں کارفرما رہیں۔
دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ کارروائی کرنا ہوگی ۔

پشاور(پریس ریلز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ افغانستان کے انقلاب ثور کی ناکامی اور اس کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے ہمیں سبق لینا چاہئے،افغان انقلاب کے حوالے سے اگر باچاخان اور ولی خان کے مشوروں پر عمل کیاجاتا تو آج اس پورے خطے کو موجودہ تباہی کا سامنا کرنا نہیں پڑتا،افغان انقلاب کی ناکامی میں خارجی قوتوں کے ساتھ ساتھ داخلی قوتوں کا بھی بڑا عمل دخل رہا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں انقلاب ثور کی سالگرہ کے حوالے سے منقعدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا دنیا میں جہان بھی انقلابات آئے ہیں زندہ قوموں نے ان سے فوائد اٹھائے ہیں،مگر بدقسمتی سے افغان انقلاب کی خوبیوں سے ہم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جس کا خمیازہ آج پاکستان اور افغانستان بھگت رہاہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے تمام قوم پرست اور ترقی پسند قوتوں کو ایک ہونا پڑے گا ورنہ اس سے زیادہ خطرناک حالات پیش آسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ جیسا ماضی میں ملک کی تمام قوم پرست اور ترقی پسند قوتیں نیپ کے جھنڈے تلے ولی خان کی قیادت میں متحد ہوئی تھیں آج اس بات کی ضرورت زیادہ محسوس کی جاتی ہے کہ دہشت گردی،انتہاپسندی اور شدت پسندی کے خلاف صف بندی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر دنیا میں سرمایہ جمع کرنے والا نظام موجودہے تو دوسری جانب سرمائے کی تقسیم کا بھی ایک موثر نظام موجود ہے ،اور جب تک معاشی انصاف،غربت کا خاتمہ اورقوموں کو ان کے جائزحقوق نہیں دیے جائیں گے،دنیا کا سارا نظام غیرمتوازن اور بگڑتا جائے گا،انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے انہدام سے امریکا واحد سپرطاقت کے طور پر سامنے آیا جس سے پوری دنیا کا سیاسی، معاشی اور نظریاتی توازن بگڑگیاہے،تاہم اس کے مقابل آج ہندوستان،روس اور ایران پر مشتمل قوتوں کا اٹھنا بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہا عالمی اور ملکی قوتیں چھوٹی قومیتوں کے گریباں سے ہاتھ نکالیں تاکہ ملک میں امن استحکام اور ترقی کا عمل مستحکم ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں دائمی امن اور ترقی کے لیے اور دہشت گردی اور شدت پسندی کی مکمل بیخ کنی کے لیے پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کارروائی وقت کا تقاضاہے،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر من وعن عمل سے ہی دہشت گردی اور شدت پسندی کا راستہ روکا جاسکتاہے۔انہوں نے کہا پنجاب آپریشن سے محسوس ہوتا ہے کہ سیکورٹی اداروں اور حکومت کے مابین باہمی اعتماد کا فقدان ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح پنجاب میں مکمل آپریشن سے ہی دہشت گردوں کی کمرتوڑی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چائنا پاک اقتصادی راہداری میں وزیراعظم کا اپنے وعدے سے مکرُ جانا ہمارا معاشی قتل اور ہمارے بچوں کے منہ سے نوالا چیھننے کی کوشش ہے جسے ہم کسی طور برداشت نہیں کریں گے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے قبائلی علاقوں کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تمام قبائلی مشران کو ایک ایک کرکے شہید کیاگیا اور وہاں دہشت گردی اور آپریشن کی وجہ سے قبائل کی اکثریت آج متاثرین کی زندگی گزاررہے ہیں،صوبائی اور مرکزی حکومت کو ان متاثرین کی مشکلات پر خصوصی توجہ دینی ہوگی جبکہ پانامہ لیکس کے شور میں دہشتگردی کے مسئلہ کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے جو تاریخی اور ناقابل معافی غلطی ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ دُنیا بھر کے تمام انقلابات کے مثبت پہلوؤں کو اپنایا جائے اور غلطیوں سے سبق سیکھا جائے۔