مورخہ : 5.5.2016 بروز جمعرات

پانامہ لیکس کے تنازعہ میں اے این پی کے اصولی موقف کی تائید جمہوریت پسندقوتوں کی جیت ہے
پانامہ لیکس سے زیادہ حساس مسئلہ ملک اور پورے خطے میں دہشگر دی کے پیش آنے والے نئے خطرات ہیں۔
دہشت گردی کی بیخ کنی کیلئے مرکزی وصوبائی حکومتوں کو سیکورٹی اداروں کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہونا پڑے گا۔
* خیبرلیکس کے معاملے پر صوبائی حکومت کی دوغلی پالیسی سب پر عیاں ہوچکی ہے،میاں افتخارحسین

پشاور(پریس ریلز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے تنازعہ میں اے این پی کے اصولی اور جمہورہت پسند موقف کی تائید پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیزکانفرس نے بھی نے کردی ، کہ تحقیقات سے قبل وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ غیرجمہوری اور غیرقانونی ہوگا اور جس سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی ایسے اقدام یا کوشش کی حمایت نہیں کرنی چاہئے جس سے جمہوریت کے ڈی رول ہونے کا خدشہ ہو انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس سے زیادہ حساس مسئلہ ملک اور پورے خطے میں دہشگر دی کے نئے پیش آنے والے خطرات ہیں،جن سے اگربروقت نہیں نمٹا گیا تو بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی نوشہرہ میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا پانامہ لیکس تنازعہ میں اے این پی کا موقف روز اول سے یہی رہا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے حوالے سے جب تک مکمل رپورٹ سامنے نہیں آتی اس وقت تک وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کسی طور پر بھی جمہوری اور سیاسی طور پر درست نہیں ہے، انہوں نے کہا اے این پی ہرکسی کے خلاف بلاامتیاز احتساب کی حمایت کرتی ہے تاہم کسی بھی ایسے عمل اور تحریک کا حصہ نہیں بنے گی جس سے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،انہوں نے کہا کہ جب تک وزیر اعظم اور دیگر کے بارے میں تحقیقات سامنے نہیں آتیں تب تک وزیر اعظم کے استعفے سمیت کسی مطالبے یا کوشش سے گریز کیا جائے جس سے بحران کی شدت میں اضافے کا خدشہ ہو۔انہوں نے کہا ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مرکزی اور خصوصاً پنجاب حکومت کو سیکورٹی اداروں کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہونا چاہئے تاکہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے انہوں نے کہا پاکستان اور افغانستان دونوں کو اپنے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنناہوگا اور دہشت گردی کے خلاف آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد کی فضاء قائم کرنی ہوگی انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور ملک میں منافقت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے جس کا واضح ثبوت پانامہ لیکس کے لیے جوڈیشل انکوائری اور وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ہے مگرخیبرلیکس کی تحقیقات کے لیے اپنی ہی بنائی ہوئی کیبنٹ کمیشن پر اکتفا کیا اور اس کمیشن کی سربراہی بھی اس پارٹی کے سینئر وزیر کو سونپی گئی جس پارٹی کو عمران خان نے کرپشن کے الزام میں حکومت سے باہرنکالا تھا،انہوں نے کہا وزیراعلی اپنی زبان قابو میں رکھیں ، اگر آئندہ ہمارے قائدین کے خلاف کوئی ایسی تیسی بات کی تو پھر ہمارے کارکن اینٹ کا جواب پتھر میں دینا اچھی طرح جانتے ہیں،انہوں نے کہا کہ نئی نسل ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور پختونوں کی موجودہ نئی نسل کو تبدیلی کے دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکاہے،یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اجداد کی جماعت اے این پی میں جوک درجوک شامل ہورہے ہیں جو کہ اے این پی پر اعتماد کا بین ثبوت ہے