مورخہ : 6.4.2016 بروز بدھ

پانامہ لیکس پر وزیر اعظم کی وضاحتی تقریر نے دُنیا کو مثبت پیغام نہیں دیا۔ زاہد خان
جن قوتوں اور لوگوں پر بیرونی امداد لینے کے الزامات ہیں، کمیشن میں وہ بھی زیر بحث لائے جائیں۔
سیاسی لیڈروں کے کاروباری معاملات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔

پشاور(پریس ریلیز)عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہدخان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات میں پاکستان کے جن جن افراد خاندانوں کے بارے میں انکشافات سے پاکستان اور بالخصوص پاکستانی قوم کیلئے شرمندگی ہوئی ہے۔وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس معاملے پر قوم سے خطاب نہیں کرنا چاہئے تھا۔وزیر اعظم کے وضاحتی خطاب سے بیرونی دنیا میں مثبت پیغام نہیں گیا۔وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے اعلی جوڈیشنل کمیشن کا قیام خوش آئند ہے۔اے این پی توقع رکھتی ہے کہ نواز شریف خاندان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وزیر اعظم کے بیٹے اور خاندان کمیشن میں خود پیش ہو کر صفائی دینگے اور بقول نواز شریف کے بیٹے سعودی عرب سے بھجوائی گئی رقم کے بارے میں بھی قوم کو پورے سچ سے آگاہ کیا جائیگا۔زاہد خان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ کمیشن کا دائرہ کار وسیع ہونا چاہئے اور کمیشن مکمل آذاد اور خودمختار ہو اور جن جن افراد ،خاندانوں ،گروہوں ،گروپوں ،سیاسی و مذہبی پارٹیوں پر بیرونی امداد لینے کا الزام ہے یا معاملات الیکشن کمیشن آف پاکستان میں زیر سماعت ہیں وہ بھی وزیر اعظم کے قائم کردہ کمیشن میں زیر بحث لائے جائیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہدخان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قانونی کاروبار ہر شہری کا حق ہے لیکن کاروبار اور سیاست الگ الگ ہونی چاہئیں۔کاروبار کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور قائدین کے بارے میں شکوک و شبہات کا خاتمہ ہونا چاہئے۔