مورخہ 20اپریل 2016ء بروز بدھ

پانامہ لیکس میں ملوث حکمران عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، سردار حسین بابک
صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام پر گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی بجلی بند کر دی گئی ہے ،
تین سال گزرنے کے بعد بھی عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکنے کی پالیسی جاری ہے
غریب اور پسے ہوئے لوگوں کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافے سے اجتناب کیا جائے
لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے وعدے پر ووٹ حاصل کرنے والوں نے عوامی مینڈیٹ کی توہین کی

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے گرمیوں کی آمد سے قبل صوبہ بھر میں ناروا لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ماہ گرما کی آمد کے ساتھ گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ مرکزی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے کہا کہ 2013کے انتخا بات میں مسلم لیگ نے لوڈ شیڈ نگ6ماہ میں ختم کرنے کے وعدے پر عوام سے ووٹ حاصل کئے تاہم تین سال گزرنے کے بعد بھی عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکنے کی پالیسی جاری ہے ،انہوں نے کہا کہ گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ عوام کو اذیت دینے کے سوا کچھ نہیں ،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے اور حکومت تین سال میں بجلی کا کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہ کر سکی جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں تنقید کرنے والے آج صوبے اور مرکز میں حکومتوں میں بیٹھے ہیں لہٰذا وہ قوم کو بتائیں کہ درپیش مسئلے کو حل کرنا کتنا مشکل ہے یہ صاحب اقتدار لوگ ہی بتا سکتے ہیں ،سردار حسین بابک نے کہا کہ پانامہ لیکس میں ملوث حکمران عوام کے کبھی خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، انہیں صرف اپنی تجوریاں بھرنے سے غرض ہے اور عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی ،
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کرنی چاہئے تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں ، انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مسئلے کو مزید الجھانے کی بجائے اسے حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ،اور غریب اور پسے ہوئے لوگوں کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافے سے اجتناب کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بھی اے این پی کے شروع کردہ بجلی کے تمام منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھنا چاہیے ،تا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر دونوں حکومتیں ایکدوسرے پر تنقید اور اک دوسرے کو ذلیل کرنے کی بجائے مسئلے کے حل کیلئے ایکدوسرے کا ساتھ دیں تو عوام کو سہولیات ملنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔