مورخہ : 1.6.2016 بروز بدھ

پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کے معاملے کو ضرورمنطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ زاہد خان
بدعنوانی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔ اے این پی شرو ع سے ہی بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔
جن کی آف شوکمپنیاں الیکشن کمیشن کے انتخابی فارم میں ظاہر نہیں کی گئیں الیکشن کمیشن ازخود نوٹس لے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اپنے قیام سے ہی بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ زاہد خان نے مطالبہ کیا ہے کہ بلا تفریق کسی بھی شخص ، گروہ ، گروپ ، پارٹی کے خلاف خودمختار اور آزاد ادارے کے ذریعے احتساب کا نظام قائم کیا جائے۔ زاہد خان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کے معاملے کو ضرور منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور مارشل لاء ادوار میں قائم ہونے والے صنعتی ، کاروباری ، سرمایہ داری ، گروپوں کے علاوہ جائیدادوں اور فارن کرنسی کے کاروباریوں سے بھی حساب کتاب برابر کیا جائے اور بیرونی امداد حاصل کرنے والے ہر ادارے کی بھی تحقیقات کی جانی چاہئیں ۔ زاہد خان نے کہا ہے کہ اے این پی کی مرکزی نائب صدر سابق ایم این اے بشریٰ گوہر کی طرف سے سینیٹر لیاقت تراکئی کے خلاف آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے اور کاغذات نامزدگی میں بھی اثاثے چھپانے کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی ۔ رٹ پٹیشن پر سینیٹر لیاقت تراکئی کو 10 جون کیلئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ زاہد خان نے کہا کہ لیاقت تراکئی کے کاغذات نامزدگی کے تجویز و تائید کنندگان ، ممبران خیبر پختونخوا اسمبلی شہرام تراکئی اور محمد علی کو بھی نا اہل کروایا جائیگا اور مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے تحت تمام ممبران پارلیمینٹ جن جن کی آف شوکمپنیاں ہیں اور الیکشن کمیشن کے انتخابی فارم میں ظاہر نہیں کی گئیں اُن کے خلاف الیکشن کمیشن ازخود نوٹس لے۔